کرنسی نوٹ کی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے، اور کاغذ ایک قیمت والا مال ہے ،اور اس پر مہر لگنے کی و جہ سے لوگ اس کی طرف مائل ہوگئے،اور اسے ضرورت کے وقت کیلئے جمع کرکے رکھنے لگے۔
اور مال کی تعریف
بھی یہی ہے کہ" لوگ اس کی طرف مائل ہوں اور اسے ضرورت کے وقت کیلئے جمع کرکے رکھنا ممکن ہو"، جیسا کہ فقہ کی معتبر کتب "بحرالرائق " اور" فتاوی شامی" (۱) وغیرہما میں ہے۔
( "ردّ المحتار"،کتاب البیوع، مطلب: فيتعریف المال والملک المتقوم، ج۷، ص۸،)
نیز یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے جس طرح مسلمانوں کو شراب اور خنزیر سے نفع اٹھانے سے منع کیا ہے اس طرح سے کاغذ کے ٹکڑوں سے اپنی مرضی کے مطابق نفع اٹھانے سے منع نہیں کیا، اور کسی چیز کے قیمت والے مال ہونے کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔۔۔۔۔۔ـ "فتاویٰ شامی" علامہ ابن عابدین شامی -علیہ الرحمہ- کی گراں قدر تصنیف ہے جو کہ" رد المحتار" کے نام سے موسوم ہے۔