| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
روپے تو میرے پاس نہیں البتہ! دس کا نوٹ چاندی کے بارہ روپوں کے عوض تجھے ایک سال تک کے لئے قسطوں
(Installment)
پر بیچتا ہوں، اس شرط پر کہ تم ہر مہینہ مجھے چاندی کاایک روپیہ بطور قسط ادا کروگے تو کیا یہ صورت جائز ہے ؟ یا پھر یہ صورت سود کا حیلہ ہونے کی و جہ سے منع ہے؟ اور اگر یہ صورت جائز ہے تو اس میں اور سود میں کیا فرق ہے کہ یہ حلال اور سود حرام ؟ حالانکہ دونوں سے مقصود زائد مال کا حصول ہے۔ ہمیں جواب عطا فرما کر بروز قیامت اجر حاصل کیجئے۔
ا لجو ا ب اللھم لک الحمد یا و ھاب
الٰہی ہمارے سردار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جو تیری طرف بہت ہی رجوع کرنے والے ہیں ان پر اور ان کی آل و ازواجِ مطہرات اور تمام صحابہ کرام پر رحمت اور سلامتی نازل فرما، میں تجھ سے حق اور درستی کی رہنمائی کا سوال کرتا ہوں۔
اے سوال کرنے والے( اﷲ تعالیٰ ہم دونوں کو توفیق عطا فرمائے اور ہماری رہنمائی فرمائے)یہ جان لو کہ نوٹ نہایت جدید اور نئی چیز(New Invention)
ہے، تمہیں علماء کرام کی کتب میں اس کا ذکر بھی نہیں ملے گا، یہاں تک کہ ماضی قریب کے فقیہ علامہ
(The Religious Lawyer of Islam)
ابن عابدین شامی- رحمۃ اﷲتعالی علیہ -اور ان کے ہم عصر علماء کی کتب بھی نوٹ کے ذکر سے خالی ہیں مگر اﷲ تعالیٰ