حاصل نہیں،جیسا کہ"ہدایہ" اور" فتح القدیر" کے حوالے سے گزرچکاکہ بائع و مشتری
کو اختیار ہے کہ کم یا زیادہ جتنی قیمت چاہیں مقررکرلیں۔
سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ ا لرحمن کے بیان کردہ مسئلے سے بعض کو سود
کا اشتباہ ہو سکتا تھا چنانچہ آپ علیہ رحمۃ الرحمن نے اس مسئلہ کی بھی وضاحت فرما دی کہ سود کی دو علتیں
ہیں، ایک جنس اور دوسری قدر( یعنی کسی چیز کا مکیلی یعنی ناپ کر بکنایاموزونی یعنی وزن سے بکنا)، اگرکسی چیزکے کسی دوسری چیزسے تبادلے میں قدر
دونوں یکساں ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ۔ اور اگر جنس و قدر میں سے کوئی ایک علت پائی جائے تو کمی بیشی حلال اور ادھار حرام،اورنوٹ کی نوٹ سے خریدوفروخت میں سود کی دوعلتوں میں سے صرف ایک علّت یعنی جنس پائی جاتی ہے، لہذا کمی بیشی جائز اور ادھار ناجائز ہے۔
چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کثیر کتب ِ فقہیہ کی روشنی میں نوٹ کا کم اور زیادہ پر بیچنا جائز ثابت کیا اور مولانا عبد الحئ صاحب لکھنوی کا فتویٰ جو اس کے خلاف تھا