Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
43 - 199
بارہ کا نوٹ دس یا بیس کے نوٹ کے عوض بیچنا ؟

جواب: نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے کم یا زیادہ جتنے پربھی خریدنے اور بیچنے والے راضی ہو جائیں، اس کا بیچنا جائز ہے، اس لئے کہ یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ نوٹوں کا مخصوص قیمت سے اندازہ کرنا صرف لوگوں کی اصطلاح
 (Terminology)
کی و جہ سے پیدا ہوا ہے، یعنی سو روپے کا نوٹ صرف اس لئے سو روپے کاکہلاتا ہے کہ عرف عام میں اسے سو روپے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور خریدنے اور بیچنے والے پر کوئی تیسرا زبردستی نہیں کرسکتا ؛کیونکہ اس تیسرے کو ان دونوں پر کوئی ولایت
 (Guardianship)
حاصل نہیں،جیسا کہ"ہدایہ" اور" فتح القدیر" کے حوالے سے گزرچکاکہ بائع و مشتری
 (Seller & Purchaser)
کو اختیار ہے کہ کم یا زیادہ جتنی قیمت چاہیں مقررکرلیں۔

سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ ا لرحمن کے بیان کردہ مسئلے سے بعض کو سود
 (Usury)
کا اشتباہ ہو سکتا تھا چنانچہ آپ علیہ رحمۃ الرحمن نے اس مسئلہ کی بھی وضاحت فرما دی کہ سود کی دو علتیں
 (Causes)
ہیں، ایک جنس اور دوسری قدر( یعنی کسی چیز کا مکیلی یعنی ناپ کر بکنایاموزونی یعنی وزن سے بکنا)، اگرکسی چیزکے کسی دوسری چیزسے تبادلے میں قدر
(Dimension)
اور جنس
(Species)
دونوں یکساں ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ۔ اور اگر جنس و قدر میں سے کوئی ایک علت پائی جائے تو کمی بیشی حلال اور ادھار حرام،اورنوٹ کی نوٹ سے خریدوفروخت میں سود کی دوعلتوں میں سے صرف ایک علّت یعنی جنس پائی جاتی ہے، لہذا کمی بیشی جائز اور ادھار ناجائز ہے۔

     چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کثیر کتب ِ فقہیہ کی روشنی میں نوٹ کا کم اور زیادہ پر بیچنا جائز ثابت کیا اور مولانا عبد الحئ صاحب لکھنوی کا فتویٰ جو اس کے خلاف تھا
Flag Counter