Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
44 - 199
اس کی اصلاح فرمائی۔اورآگے چل کر قوانینِ شرعیہ کی روشنی میں ایسے چھ شرعی حیلے
(Stratagems)
بیان کیے کہ جن پر عمل کرکے کثیر منافع حاصل کیے جا سکتے ہیں اور سود سے بھی بچا جا سکتا ہے ۔ چنا نچہ اگر فقہاء کرام کے بیان کردہ اُن طریقوں پر ہمارے ارباب حل و عقد توجہ فرمالیں تو آج نہایت آسانی سے بینکنگ کے نظام کو شریعتِ مطہرہ کے عین مطابق زیادہ منافع بخش بنایا جاسکتا ہے ۔

سوال نمبر۱۲: کیا یہ صورت کہ زیدجب عمرو سے قرض لینا چاہے تو عمرو کہے کہ چاندی کے روپے تو میرے پاس نہیں البتہ دس کا نوٹ چاندی کے بارہ روپوں کے عوض تجھے ایک سال تک قسطوں
(Installment)
پر بیچتا ہوں اس شرط پر کہ تم ہر مہینہ مجھے ایک روپیہ بطور قسط ادا کروگے جائز ہے ؟ یا پھر یہ صورت سودکا حیلہ ہونے کی و جہ سے منع ہے ،اور اگر یہ صورت جائز ہے تو اس میں اور سود میں کیا فرق ہے کہ یہ حلال اور وہ حرام ہے، حالانکہ دونوں سے مقصود
(Intended)
زائد مال کا حصول ہے۔

جواب:مذکورہ سوال کا جواب دیتے ہوئے سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں :"اگر دونوں حقیقۃً بیع ہی کی نیت سے لین دین کریں اور قرض کی نیت نہ کریں تو یہ صورت جائز ہے، نیز اس صورت میں کمی بیشی اور مدت معیّنہ
(Term)
تک اُدھار بھی جائز ہے"۔کیونکہ نوٹ کاغذ کی جنس سے ہے اور روپے چاندی کی جنس سے ،چنانچہ دونوں کی جنسیں مختلف ہوئیں اور ان میں قدر بھی مشترک نہیں؛ کیونکہ دونوں ہی گِن کر بکنے والی چیزیں ہیں،اور گِن کر بکنے والی اشیاء میں سودنہیں ہوتا، جیسا کہ شروع میں تفصیل سے بیان کیا جا چکاہے لہذاان دونوں کے تبادلے میں کمی بیشی اوراُدھاردونوں ہی جائز ہیں۔ جیسا کہ ہم ان سب باتوں کی تحقیق بیان کر آئے اور قسط
Flag Counter