| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
حامئ سنت' ماحئ بدعت جناب مولانا مولوی شاہ محمد ارشاد حسین صاحب رام پوری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کا فتویٰ سوال : کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آجکل جو نوٹ رائج ہیں ان کی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت پر ان کی خرید وفروخت جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب ھو الملھم للصواب
ترجمہ:"بے شک اﷲ عزوجل ہی درستی کا الہام فرماتا ہے"
مذکورہ نوٹ کی کم یا زیادہ قیمت پر خریدوفروخت جائز ہے؛ کیونکہ گورنمنٹ نے اسے مال قرار دیا ہے اور جس چیز کو قوم کی اصطلاح(Terminology)
میں مال قرار دیدیا جائے چاہے اصل میں
(Originally)
اس کی ثمنیت اور مالیت ثابت نہ ہو لیکن قوم کے اسے ثمن
(Currency)
قرار دینے سے اس میں ثمنیت اور مالیت ثابت ہوجاتی ہے، نیز اسے اس کی مالیت سے کم یازیادہ قیمت پر بیچنا بھی جائز ہے ۔"ہدایہ" میں ہے کہ امام اعظم اور امام ابو یوسف- رضی اﷲ عنہما -کے نزدیک ایک پیسے کو دو معیّن پیسوں کے عوض بیچنا جائز ہے، جبکہ امام محمد فرماتے ہیں کہ جائز نہیں؛ کیونکہ کسی چیز کی ثمنیت تمام لوگوں کے اسے ثمن
(Currency)
قرار دینے سے ثابت ہوتی ہے، لہٰذا یہ اصطلاح
(Terminology)
فقط بائع و مشتری کی اصطلاح سے باطل نہ ہوگی، اور