| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
شیخین یہ دلیل پیش فرماتے ہیں کہ بائع و مشتری کے حق میں کسی چیز کا ثمن ہونا فقط انہی کی اصطلاح سے ثابت ہوتا ہے؛ کیونکہ ان دونوں پر کسی غیر کو کوئی ولایت
(Guardian Ship)
حاصل نہیں، لہٰذا ان دونوں کی اصطلاح سے اس چیز کی ثمنیت باطل ہوجائے گی، اور جب ثمنیت باطل ہوگی تو تعین کرنے سے وہ چیز معیّن بھی ہوجائے گی۔
("الھدایۃ" في شرح" بدایۃ المبتدي"، کتاب البیوع، باب الرّبا، ج۳، ص۶۳) لہٰذا جب نوٹ میں -جو کہ اصل میں کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے -ثمنیت ثابت ہوگئی تو کم و زیادہ قیمت پر اس کی خریدو فروخت بھی جائز ہے۔
" رد المحتار" کے باب العینہ میں ہے:" یہاں تک کہ اگر کوئی کاغذ کا ایک ٹکڑا ایک ہزار کے عوض بیچے تو یہ بلاکراہت جائز ہے"۔( "رد المحتار"، کتاب الکفالۃ، مطلب: في بیع العینۃ، ج۷، ص۶۵۵)
واﷲ أعلم وعلمہ أتم العبد المجیب محمد ریاست علی عفی عنہ