| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
لہٰذا جب مسلمان ایسی بات سنیں گے کہ ان کا مقصد بھی حاصل ہو جائے اور وہ حرام فعل کے ارتکاب سے بھی بچے رہیں تو کیا و جہ ہے کہ توبہ نہ کریں اور شریعت و اسلا م کی بات پر عمل نہ کریں، کیونکہ انہیں شریعت و اسلام سے کوئی عداوت نہیں اور بیشک مشائخِ بلخ مثلاً امام محمد بن سلمہ وغیرہ نے تاجروں سے کہا کہ" بیع عینہ جس کا ذکر حدیث پاک میں ہے تمہاری ان بیعوں سے بہتر ہے"۔
محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں : " یہ ٹھیک بات ہے اس لیے کہ بلاشبہ بیع فاسد غصب وحرام کے حکم میں ہے ، تو کہاں وہ اور کہاں بیع عینہ کہ بیع عینہ تو صحیح ہے اور اس کے مکروہ ہونے میں بھی اختلاف ہے"۔( "فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴)
باقی رہا گمان کرنے والے کا یہ گمان کہ اگر بیع کی یہ صورت منع نہیں تو اس میں اور سود میں کیا فرق ہے حالانکہ زیادتی دونوں میں حاصل ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔؟
تو میں اس کا جواب یوں دوں گا کہ یہ وہ اعتراض ہے جو کفار نے کیا تھا تو خود اﷲ رب العزت تبارک و تعالیٰ نے اس کا جواب قرآن پاک میں دیا :۔( قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا )
ترجمہ کنز الایمان: "انہوں(کافروں)نے کہا بیع بھی تو سودہی کے مانند. (پ ۳،البقرۃ: ۲۷۵)