میں کہتا ہوں کہ جن لوگوں نے بیع کی اس صورت کو مکروہ کہا جیسے امام محمد تو اس کی وجہ یہ ہے، جیسا کہ" فتح القدیر"، " ایضاح"اور" محیط" کے حوالوں سے گزرا کہ لوگ اس کی طرف راغب ہو کر کسی ناجائز کام میں نہ پڑجائیں اور ہمارے زمانے میں معاملہ الٹا ہوگیا ہے، اور ہندوستان میں سود کا علانیہ لین دین ہونے لگا ہے، لوگ اس سے بالکل نہیں شرماتے، گویا یہ ان کے نزدیک نہ کوئی عیب ہے اور نہ ہی عار کی بات، لہٰذا وہ عالم دین جو ان لوگوں کو سود جیسی بلائے عظیم اور سخت کبیرہ گناہ سے بچا کر سود سے بچاؤ کے جائز حیلوں کی طرف لے آئے، جیسے دس کا نوٹ قسط بندی کرکے بارہ کو بیچنا اور اس کے سوا اور حیلے جو امام فقیہ النفس قاضی خان سے گزرے تو کچھ شک و شبہ نہیں کہ وہ مسلمانوں کا خیر خواہ ہے، اور دین ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے ہی کا نام ہے، لوگ اگرچہ گناہ علانیہ کررہے ہیں مگر اسلام ابھی باقی ہے ۔وﷲالحمد۔