Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
180 - 199
نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:۔

     (( ایسا نہ کرو۔۔۔۔۔۔! اپنی کھجوریں روپوں کے بدلے میں بیچ کر روپوں سے یہ جَنِیب کھجوریں خریدلیا کرو))۔
 ( "صحیح البخاري"، کتاب البیوع، باب إذا أراد بیع تمر بتمر خیر منہ، رقم الحدیث: ۲۲۰۱،۲۲۰۲، ج۲، ص۴۴۔ "صحیح مسلم"، کتاب المساقات، باب بیع الطعام مثلاً بمثل، رقم الحدیث: ۱۵۹۳، ص۸۵۹)
     میں کہتا ہوں کہ جن لوگوں نے بیع کی اس صورت کو مکروہ کہا جیسے امام محمد تو اس کی وجہ یہ ہے، جیسا کہ" فتح القدیر"، " ایضاح"اور" محیط" کے حوالوں سے گزرا کہ لوگ اس کی طرف راغب ہو کر کسی ناجائز کام میں نہ پڑجائیں اور ہمارے زمانے میں معاملہ الٹا ہوگیا ہے، اور ہندوستان میں سود کا علانیہ لین دین ہونے لگا ہے، لوگ اس سے بالکل نہیں شرماتے، گویا یہ ان کے نزدیک نہ کوئی عیب ہے اور نہ ہی عار کی بات، لہٰذا وہ عالم دین جو ان لوگوں کو سود جیسی بلائے عظیم اور سخت کبیرہ گناہ سے بچا کر سود سے بچاؤ کے جائز حیلوں کی طرف لے آئے، جیسے دس کا نوٹ قسط بندی کرکے بارہ کو بیچنا اور اس کے سوا اور حیلے جو امام فقیہ النفس قاضی خان سے گزرے تو کچھ شک و شبہ نہیں کہ وہ مسلمانوں کا خیر خواہ ہے، اور دین ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے ہی کا نام ہے، لوگ اگرچہ گناہ علانیہ کررہے ہیں مگر اسلام ابھی باقی ہے ۔وﷲالحمد۔
Flag Counter