Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
179 - 199
چھوہاروں کے بدلے ایک صاع بَرنی کھجوریں خریدیں۔

     نبی کریم رؤف رحیم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:۔

     (( اُف یہ تو خالص سود ہے ،خالص سود ہے ایسا نہ کرو۔۔۔۔۔۔! مگر جب تم ان کھجوروں کو خریدنا چاہو توپہلے اپنے چھوہاروں کو کسی اور چیزسے بیچ لو اور پھر اُس چیز کے بدلے ان کجھوروں کو خریدلو))۔
( "صحیح البخاری"، کتاب الوکالۃ، باب إذا باع الوکیل شیئًا فاسدًا...إلخ، رقم الحدیث: ۲۳۱۲، ج۲، ص۸۳۔ "صحیح مسلم"، کتاب المساقات، باب بیع الطعام مثلاً بمثل، رقم الحدیث: ۱۵۹۴، ص۸۶۰)
    نیز "بخاری" و"مسلم "نے حضرت ابو سعیدخدری اور ابو ھریرہ- رضی اﷲ عنہما- دونوں سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر پر گورنر بنا کر بھیجا ،وہ سرکار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جَنِیب کجھوریں یعنی اعلیٰ قسم کی کجھوریں لے کر حاضر ہوئے ، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:۔

    (( کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟))

     عرض کی: نہیں۔

     خدا کی قسم۔۔۔۔۔۔! یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم اس قسم کی کھجوروں کا ایک صاع دو صاع کے بدلے میں، دو صاع تین صاع کے بدلے میں خریدتے ہیں ۔
Flag Counter