| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
اور وہ مسئلہ جو ہمارا موضوع بحث ہے یعنی نوٹ، یہ تو خالص بیع ہے اس میں قرض اصلاً نہیں، نہ لین دین سے پہلے اور نہ ہی بعد میں لہٰذا اس کا بالاتفاق بلا خلاف وبلا نزاع جائز ہونا ہی زیادہ لائق اور مناسب ہے۔
اس قسم کے حیلے کا قرآن و حدیث سے ثبوت
اگرتم حیلہ کے مسئلہ میں مزید وضاحت کے طلب گار ہو تو سنو۔۔۔۔۔۔! ہمارا رب - عزوجل -اپنے بندہ ایوب- علیہ السلام- سے فرماتا ہے: ۔( وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ )
ترجمہ کنز الایمان: "اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے لے اس سے مار اور قسم نہ توڑ"۔ ( پ ۲۳،صۤ: ۴۴)
اور ہمارے آقاو مولیٰ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سود سے بچنے کا حیلہ اور ایسا طریقہ بیان فرمایاہے کہ مقصود بھی حاصل ہوجائے اور حرام سے بھی محافظت رہے۔ " بخاری" و" مسلم "نے حضرت ابو سعید خدری- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا:حضرت بلال -رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس بَرنی کھجوریں لے کر حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا :۔
(( تم نے یہ کہاں سے لیں۔۔۔۔۔۔؟))
حضرت سیدنابلال- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ -نے عرض کی:۔
حضورہمارے پاس خراب چھوہارے تھے ہم نے دو صاع (۱) خرابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۱۔۔۔۔۔۔ ایک صاع تقریباً چار کلو اورسو گرام کے وزن کاپیمانہ ہوتا ہے ۔