Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
177 - 199
    اسی طرح امام شیخ الاسلام خواہر زادہ نے قرض میں بیع کی شرط نہ ہونے کی صورت میں ان اقسام کے جائز ہونے پر اتفاق نقل فرمایاہے، لہٰذا جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے اسکی تعلیم، صحابہ کرام سے اسے کرنا اور اس کی تعریف ثابت، اور ہمارے ائمہ کرام کا اس کے جواز پر اجماع قائم ہے تو اب شک کی کونسی جگہ باقی رہی ۔
واﷲ الھادي إلی الصواب۔
"اور اللہ ہی ٹھیک راستہ دکھانے والا ہے"۔
 ("ردالمحتار،کتاب البیوع، فصل فی القرض، مطلب :کل قرض جرنفعاًحرام،ج۷،ص۴۱۵)
    میں کہتا ہوں کہ یہ بھی اسی صورت میں ہے کہ بیع اور قرض دونوں اس طرح سے جمع ہوں کہ زید عَمرو کو کچھ روپے قرض دے اور تھوڑی سی چیز اسے زیادہ قیمت میں بیچے، تو قرضدار قرض کی ضرورت کی بنا پر اسے خریدے گا،تو اس صورت میں اگر قرض پہلے ہے تو بعض علماء کے نزدیک یہ بیع مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ ایسا قرض ہے جو نفع کھینچ کرلارہا ہے، اور اگر بیع پہلے ہوچکی تھی اور قرض بعد میں دیا تو بالاتفاق اس میں کوئی حرج نہیں؛کیونکہ وہ ایک ایسی بیع ہے جو قرض کا نفع لائی، جیسا کہ امام شمس الائمہ حلوانی نے اس کافائدہ (Benefit)بیان فرمایا اور اسی پر فتویٰ دیا ،جیسا کہ" رد المحتار" میں مذکور ہے۔
Flag Counter