| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
اسی طرح امام شیخ الاسلام خواہر زادہ نے قرض میں بیع کی شرط نہ ہونے کی صورت میں ان اقسام کے جائز ہونے پر اتفاق نقل فرمایاہے، لہٰذا جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے اسکی تعلیم، صحابہ کرام سے اسے کرنا اور اس کی تعریف ثابت، اور ہمارے ائمہ کرام کا اس کے جواز پر اجماع قائم ہے تو اب شک کی کونسی جگہ باقی رہی ۔
واﷲ الھادي إلی الصواب۔
"اور اللہ ہی ٹھیک راستہ دکھانے والا ہے"۔
("ردالمحتار،کتاب البیوع، فصل فی القرض، مطلب :کل قرض جرنفعاًحرام،ج۷،ص۴۱۵)میں کہتا ہوں کہ یہ بھی اسی صورت میں ہے کہ بیع اور قرض دونوں اس طرح سے جمع ہوں کہ زید عَمرو کو کچھ روپے قرض دے اور تھوڑی سی چیز اسے زیادہ قیمت میں بیچے، تو قرضدار قرض کی ضرورت کی بنا پر اسے خریدے گا،تو اس صورت میں اگر قرض پہلے ہے تو بعض علماء کے نزدیک یہ بیع مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ ایسا قرض ہے جو نفع کھینچ کرلارہا ہے، اور اگر بیع پہلے ہوچکی تھی اور قرض بعد میں دیا تو بالاتفاق اس میں کوئی حرج نہیں؛کیونکہ وہ ایک ایسی بیع ہے جو قرض کا نفع لائی، جیسا کہ امام شمس الائمہ حلوانی نے اس کافائدہ (Benefit)بیان فرمایا اور اسی پر فتویٰ دیا ،جیسا کہ" رد المحتار" میں مذکور ہے۔