اور" بحر الرائق" میں "قنیہ" کے حوالے سے مذکور ہے کہ خرید و فروخت کی وہ اقسام جنہیں لوگ سود سے بچنے کے لئے کرتے ہیں ان میں کوئی حرج نہیں، پھر ایک عالم صاحب کا قول لکھا کہ وہ انہیں مکروہ کہتے ہیں، امام بقالی بیع کی ان اقسام کے مکروہ ہونے کو امام محمد سے روایت کرتے ہیں، اور امام اعظم اور امام ابو یوسف کے نزدیک ان میں کچھ حرج نہیں۔ امام شمس الائمہ زرنجری فرماتے ہیں کہ امام محمد کا اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ قرض دے کر پھر اس قسم کی بیع کریں، اور اگر بیع ہوگئی پھر روپے دیئے تو اس میں بالاتفاق کوئی حرج نہیں ۔
("البحر الرائق"، کتاب البیوع، باب الربا، قولہ (فضل مال بلا عوض في معاوضۃ) ج۶، ص۲۱۱)