Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
176 - 199
    اور ان کا یہ قول بھی گزر چکا کہ صحابہ کرام- علیہم الرضوان -نے بھی بیع عینہ کی اور اس کی تعریف بھی فرمائی۔
 ( "فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴، ملخّصا)
     اور" فتاویٰ قاضی خان" کا قول گزرا کہ اس کے مثل عمل کرنا نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے کرنے کا حکم دیا تو اب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ کرام- رضی اﷲ عنہم اجمعین -کی اجازت کے بعد اسے منع کرنے والا کون ہے۔
 ("فتاوٰی قاضي خان"، کتاب البیوع، باب في بیع مال الرّبا، فصل فیما یکون فراراً عن الرّبا، ج۲، ص۴۰۸)
    اور" بحر الرائق" میں "قنیہ" کے حوالے سے مذکور ہے کہ خرید و فروخت کی وہ اقسام جنہیں لوگ سود سے بچنے کے لئے کرتے ہیں ان میں کوئی حرج نہیں، پھر ایک عالم صاحب کا قول لکھا کہ وہ انہیں مکروہ کہتے ہیں، امام بقالی بیع کی ان اقسام کے مکروہ ہونے کو امام محمد سے روایت کرتے ہیں، اور امام اعظم اور امام ابو یوسف کے نزدیک ان میں کچھ حرج نہیں۔ امام شمس الائمہ زرنجری فرماتے ہیں کہ امام محمد کا اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ قرض دے کر پھر اس قسم کی بیع کریں، اور اگر بیع ہوگئی پھر روپے دیئے تو اس میں بالاتفاق کوئی حرج نہیں ۔
 ("البحر الرائق"، کتاب البیوع، باب الربا، قولہ (فضل مال بلا عوض في معاوضۃ) ج۶، ص۲۱۱)
Flag Counter