| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
نیز "رد المحتار" میں "ذخیرہ" کے حوالے سے ہے کہ زید نے کسی سے ایک پیمانہ
(Measure)
مثال کے طور پر ۱۰ کلو گندم قرض لے کر اس پر قبضہ کرلیا، پھر بعینہ وہی گندم قرض دینے والے سے خریدی تو امام اعظم اور امام محمد کے نزدیک یہ ناجائز ہے؛کیونکہ زید توقبضہ کرتے ہی گندم کا مالک ہوگیا، تو پھر اپنی مِلک کسی اور سے کیسے خرید سکتا ہے.....؟ ہاں۔۔۔۔۔۔! امام ابو یوسف کے نزدیک وہ گندم ابھی تک قرض دینے والے کی ملک پر باقی ہے، تو یہ ایسے ہوگیا کہ پرائی مِلک اس سے خریدی لہذا یہ جائز و صحیح ہے۔
( "رد المحتار"، کتاب البیوع، باب المرابحۃ، فصل في القرض، مطلب في شراء المستقرض...إلخ، ج۷، ص۴۱۱)
سود سے بچنے کی ترکیبیں
جہاں تک سود سے بچنے کے لئے حیلہ کرنے
(Stratagem)
کا تعلق ہے تو اس کے بیان میں ہم نے تمہیں بہت کچھ بتاد یا وہی کفایت کریگا، اور امام ابو یوسف -رحمۃ اﷲ علیہ- کا قول بھی گزرا کہ" بیع عینہ جائز ہے اور اس کا کرنے والا ثواب پائے گا؛ کیونکہ یہ حرام سے بچنا چاہتا ہے "۔
( "الفتاوٰی الخانیۃ"، کتاب البیوع، باب في بیع مال الرّبا، فصل فیما یکون فراراً عن الرّبا، ج۲، ص۴۰۸)