| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
قرض روپوں کے بدلے میں خرید لیا اور دونوں پر قبضہ کرنے سے پہلے دونوں جدا ہوگئے تو یہ بیع باطل ہوگئی۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کا یاد رکھنا بہت ضروری ہے ۔
("الفتاوی البزازیۃ" ھامش "الفتاوی الھندیۃ"، کتاب الصرف، ج۵، ص۶)"رد المحتار" میں" ذخیرہ" کے حوالے سے لکھا ہے کہ قرض دینے والے کا جو غلہ قرضدار پر آتا تھا وہ غلہ قرضدارنے قرض خواہ سے سو اشرفیوں کے بدلے خرید لیا تو جائز ہے؛ کیونکہ یہ قرض اس قرضدار پر نہ عقد صَرف (۱)سے تھا نہ عقد سَلم (۲)سے، پھر اگر وہ غلہ خریداری کے وقت خرچ ہوچکا تھا پھر تو سب کے نزدیک بالاتفاق جائز ہے؛ کیونکہ خرچ کرنے سے بالاتفاق غلہ کا مالک ہوگیا تھا، اور یہ غلہ اس قرضدار کے ذمہ بطور قرض واجب رہا، اور اگر غلہ موجود ہے تو امام اعظم اور امام محمد کے نزدیک اب بھی جائز ہے، اور امام ابو یوسف کے نزدیک ناجائز؛کیونکہ ان کے نزدیک جب تک قرضدار غلہ خرچ نہ کرلے اس کا مالک نہ ہوگا اور نہ ہی اس غلہ کی مثل
(Similar)
دینا اس پر واجب ہوگا اب جو یہ کہا کہ وہ غلہ جو میرے ذمہ ہے میں نے اسے خریدا تو معدوم چیز کو خریدا لہٰذا یہ صورت ناجائز ہوئی ۔
( "رد المحتار"، کتاب البیوع، باب المرابحۃ، فصل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۱۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ( علامہ قاری الہدایہ) تو اسے بیع سَلم (V.alivrer) مان رہے ہیں اور تم( علامہ شامی) اسے بیعِ صرف کہہ رہے ہو۔ ۱۲منہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ۲۔۔۔۔۔۔ اس لئے کہ ثمن میں بیع سَلم اصلاً جائز نہیں، چاہے اس چیز میں ہو جس میں دونوں طرف کا قبضہ شرط ہے جیسے ثمن کے عوض ثمن کی بیع سَلم یا ایسا نہ ہو جیسے ثمن کے عوض مبیع کی بیع سَلم۔