Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
173 - 199
    ا سی طرح سے اگر کسی کو دس کا نوٹ قرض دیا تھا بعد میں قرض خواہ نے اس سے قرض کا تقاضا کیا قرضدار نے کہا کہ میرے پاس اس قسم کا نوٹ نہیں ہے اور میں تمہیں نوٹ کے بدلے روپے دوں گا، پھر دس کے نوٹ کے بدلے بارہ روپوں پر صلح ہوگئی اور اسی مجلس میں بارہ روپے ادا کردیئے( تاکہ عاقدین دَین کے بدلے دَین بیچ کر جدا نہ ہوں) تو یہ بھی جائز ہے ۔

    پھر اگر وہ نوٹ جو اُس نے لیا تھا اُس کے پاس نہ رہا یعنی اس سے خرچ ہوگیاجب تو اس کے جائز ہونے پر تمام ائمہ متفق ہیں، اور اگر نوٹ قرضدار کے پاس موجود ہے مگر قرضدار نے خاص اسی نوٹ کو روپوں سے نہ خریدا تھا بلکہ جو نوٹ قرضدار کے ذمہ قرض تھا اُسے خریدا، تو یہ امام اعظم اور امام محمد - رضی اﷲ تعالیٰ عنہما- کے نزدیک جائز ہے۔

     ہاں۔۔۔۔۔۔! اگر جو نوٹ قرض لیا تھا موجود ہے اور بعینہ اسی نوٹ کو بارہ روپوں یا دس یا جتنے میں چاہے خرید لے تو یہ بیع طرفین یعنی امام اعظم اور امام محمد کے نزدیک باطل، اور امام ابو یوسف- رضی اﷲ تعالیٰ عنہم- کے نزدیک جائز ہے۔

    باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب قرضدار نے یہ نوٹ قرض لیا تو قرض لیتے ہی اس نوٹ کا مالک ہوگیا ،تو خود اپنی مملوک چیز کو دوسرے سے کیونکر خریدسکتا ہے۔۔۔۔۔۔! "وجیز کردری" میں ہے جب زید کا کسی پر غلہ یا پیسے قرض ہوں، قرض دار نے زید سے وہ