| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قرض دیا اور کچھ زیادہ لینا شرط نہ کیا اور نہ ہی لین دین سے زیادہ لینا معروف تھا؛کیونکہ جو چیز معروف ہو وہ مشروط کی طرح ہوتی ہے پھر قرض لینے والے نے قرض ادا کرکے اپنی طرف سے بطور احسان کچھ زائد دیا جو قرض کے علاوہ ممتاز ہو(یہ اس لیے کہ قابلِ تقسیم میں ھبہ مشاع نہ ہوجائے)، تو یہ جائز ہے ،اس میں کچھ حرج نہیں ،بلکہ اس قبیل سے ہے کہ:۔
( ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسٰنِ اِلَّا الْاِحْسٰنُ )
ترجمہ کنز الایمان : "احسان کا بدلہ کیا ہے سوائے احسان کے"۔ (پ۲۷،الرّحْمٰن: ۶۰)
اور بے شک یہ بات سرکار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے کہ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پاجامہ خرید فرمایا۔ اور وہاں قیمت تول کر دی جاتی تھی۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تولنے والے سے فرمایا کہ:۔
((تول اور کچھ زیادہ د ے))("سنن الترمذي"، کتاب البیوع، باب ما جاء في الرُّجْحان، رقم الحدیث: ۱۳۰۹، ج۳، ص۵۲۔ "سنن النسائي"، کتاب البیوع، باب الرجحان في الوزن، ج۷، ص۲۸۴)