تک اُدھار بھی جائز ہے، جیسا کہ ہم ان باتوں کی تحقیق بیان کرچکے ہیں، اور قسطوں پر دینا بھی ایک قسم کی مدت معیّن کرنا ہی ہے ۔ہاں۔۔۔۔۔۔! اگر عَمرو دس کانوٹ بطور قرض دے اور یہ شرط ٹھہرا لے کہ چاندی کے بارہ یا گیارہ یا دس روپے سے کچھ زائد رقم ابھی یا کچھ مدّت بعد قسط وار، یا بِلا قسط واپس کریگا تو یہ ضرور حرام اور سود ہے، اس لئے کہ یہ ایک ایسا قرض ہے جس سے نفع حاصل کیا جارہا ہے، اور بے شک ہمارے آقا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:(( کہ جو قرض نفع کھینچ کر لائے وہ سود ہے))
( "کنز العُمّال"، کتاب الدین والسلم من قسم الأقوال، فصل في لواحق کتاب الدین، رقم الحدیث: ۱۵۵۱۲، ج۶، ص۹۹)
اس حدیث کو حارث بن ابو اسامہ نے امیر المومنین حضرت علی -کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم -سے روایت کیا ہے۔