Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
171 - 199
جائز ہے تو اس میں اور سود میں کیا فرق ہے؟ حالانکہ دونوں سے مقصود
 (Intended)
زائد مال کا حصول ہے مگر یہ حلال اور سود حرام۔
ا لجو ا ب

    اگر دونوں حقیقۃً بیع ہی کی نیت سے لین دین کریں اور قرض کی نیت نہ کریں تو یہ صورت جائز ہے، نیز اس صورت میں کمی بیشی اور مدت معیّنہ
(Term)
تک اُدھار بھی جائز ہے، جیسا کہ ہم ان باتوں کی تحقیق بیان کرچکے ہیں، اور قسطوں پر دینا بھی ایک قسم کی مدت معیّن کرنا ہی ہے ۔ہاں۔۔۔۔۔۔! اگر عَمرو دس کانوٹ بطور قرض دے اور یہ شرط ٹھہرا لے کہ چاندی کے بارہ یا گیارہ یا دس روپے سے کچھ زائد رقم ابھی یا کچھ مدّت بعد قسط وار، یا بِلا قسط واپس کریگا تو یہ ضرور حرام اور سود ہے، اس لئے کہ یہ ایک ایسا قرض ہے جس سے نفع حاصل کیا جارہا ہے، اور بے شک ہمارے آقا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:(( کہ جو قرض نفع کھینچ کر لائے وہ سود ہے))
( "کنز العُمّال"، کتاب الدین والسلم من قسم الأقوال، فصل في لواحق کتاب الدین، رقم الحدیث: ۱۵۵۱۲، ج۶، ص۹۹)
    اس حدیث کو حارث بن ابو اسامہ نے امیر المومنین حضرت علی -کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم -سے روایت کیا ہے۔
Flag Counter