Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
170 - 199
آئے گا؛ کیونکہ یہاں نہ حقیقتہً ایک جنس ہے نہ حکماً، لہٰذا اب تیرے فتویٰ کاانجام یہ ہوگا کہ دس کا نوٹ بارہ روپے کے عوض بیچنا تو حرام ہے ؛کیونکہ اس نے بِلا معاوضہ ایک زیادتی یعنی دو روپے زائد وصول کئے، اور اگر یہی نوٹ بارہ سونے کی اشرفیوں کے عوض بیچا جائے تو کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ اس نے کوئی قابلِ اعتبار زیادتی وصول نہیں کی۔

    تو سبحان اﷲ اس فتویٰ کے کیا کہنے .....! اس کی نظر کس قدر دقیق ہے.....! سود کو حرام کرنے میں شرع شریف کا جو مقصود تھا، یعنی لوگوں کے مال کو محفوظ رکھنا اس فتویٰ نے اس مقصد کی کس قدر رعایت کی .....!
ولا حول ولا قوۃ إلّاباﷲ العلي العظیم.
    خلاصہ یہ کہ اس منع کرنے والے کا کلام نہ ہی کسی اصل کی طر ف لوٹتاہے، نہ ہی دلیل کی جانب، بلکہ یہ ان کا خود ساختہ فہم ہے اور وہی اس کے قائل ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اس پر کوئی دلیل نہیں اتاری اور بے شک تمام خوبیاں اﷲ ہی کے لئے ہیں اور اسی پر بھروسا ہے اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔

سوال ۱۲: کیا یہ صورت جائز ہے کہ زید عَمروسے قرض لینا چاہے تو عَمرو کہے کہ چاندی کے روپے تو میرے پاس نہیں، البتہ دس کا نوٹ چاندی کے بارہ روپے کے عوض تجھے ایک سال تک کے لئے قسطوں پر بیچتا ہوں، اس شرط پر کہ تم ہر مہینہ مجھے ایک روپیہ بطور قسط ادا کرو گے؟ یا یہ صورت سود کا حیلہ ہونے کی وجہ سے منع ہے؟ اور اگر یہ
Flag Counter