نوٹ د س کے عوض بیچو گے تو سود خود تم پر پلٹے گا؛ کیونکہ روپوں کی روپوں سے بیع کی صورت میں دونوں کی مالیت کا برابر ہونے کا حکم نہیں بلکہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس مسئلہ میں کھرااو ر کھوٹا دونوں برابر ہیں صرف وزن میں برابری کا حکم ہے۔
لہٰذا تم پر واجب ہے کہ تم ایک پلڑے میں نوٹ اور دوسرے میں روپے کی ریزگاری یا اور کوئی چاندی رکھو،بس اُتنے ہی نوٹ بیچے جتنی چاندی وزن میں نوٹ کے برابر ہو اور یہ چاندی دوا نی یا چوَنّی بھر سے زائد نہ ہوگی، اور اگر تم اس سے زیادہ لوگے تو گویا تم نے سود کھایا اور سود کو حلال کیا ،اور اگر تم یہ گمان کرو (۱) کہ اس غرق ہونے اور فرق نہ ہونے کے سبب روپوں سے جو حکم نوٹ کی طرف آیا وہ یہ ہے کہ مبیع و ثمن کو مالیت میں برابر کرلیا جائے، تو یہ تمہاری بڑی نادانی ہے جو مسخرے پن کی طرح ہے، اور ضعف کی و جہ سے لچک لچک ہورہا ہے؛ کیونکہ مالیت میں برابر کرنا خود روپوں کا حکم نہیں تھا، لہٰذا جو حکم خود روپوں میں نہیں تو اُ ن کے مشابہ نوٹ میں وہ حکم کیونکر سرایت کریگا.....!
اس کے علاوہ اگر نوٹ روپوں کے ساتھ حقیقتہً یا حکماً متحد ہو بھی جائے تو پھر بھی سونے کے ساتھ ہرگز متحد نہ ہوگا؛ کیونکہ دو متبائن ـ نوعین متحد ( دومختلف اور متضاد چیزیں ایک جگہ جمع) نہیں ہوسکتیں، لہٰذا اس صورت میں اگر دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفیوں کے عوض بیچا جائے تو وہ حرج جو بارہ روپے کے عوض بیچنے میں تھا لازم نہیں