ان سب میں سود کی دو علتوں میں سے ایک علت یعنی وزن موجود ہے تو پھر روپوں کے عوض نوٹ کی خرید وفروخت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، حالانکہ نوٹ تو صرف ثمن اصطلاحی ہے، اور اس کی مالیت کا اندازہ ایک ایسی اصطلاح سے کیا گیا ہے جس کی پابندی بائع و مشتری پر لازم نہیں، اور اس میں رِبا کی دونوں علتوں میں سے کوئی بھی نہیں پائی جاتی، نہ جنس ، نہ ہی قدر ،لہٰذا یہاں ناجائز ہونے کا حکم تین قسم کے لوگ ہی لگاسکتے ہیں جن پر سے قلمِ شرع اٹھالیا گیا ہے۔ (۱) بچہ (۲) سونے والا اور(۳) دیوانہ ،ہم اﷲ تعالیٰ سے معافی اور پناہ مانگتے ہیں، اس مسئلہ میں یہی تحقیقِ جواب ہے اور امید کرتاہوں کہ دولہا کے بعد عطر نہیں۔ لیکن اے شخص۔۔۔۔۔۔! اگر تم اپنی اس بات کے علاوہ اور کوئی بات تسلیم نہ کرو کہ" نوٹ روپوں میں ایسا غرق ہے کہ گویا وہ بعینہ روپیہ ہے" تو اب میں تم سے یہ پوچھنا چاہوں گا(۱) کہ نوٹ کے روپوں میں غرق ہونے اور فرق نہ ہونے کے سبب آیا نوٹ حقیقۃً چاندی کا روپیہ ہوگیا یا حکماً۔۔۔۔۔۔؟حکما ًسے مراد یہ ہے کہ شرع نے روپوں سے نوٹ کی بیع میں وہی حکم جاری فرمایا جو روپوں کو روپوں کے عوض بیچنے میں ہے ،جیسا کہ تم نے کہا تھا کہ گویا دس روپے ہیں، جنہیں بارہ روپوں کے عوض بیچا گیا ہے۔ یا پھر نوٹ حقیقۃً و حکماً کسی طرح بھی روپوں کے حکم میں نہیں، اس تیسری صورت میں تمہاری گزشتہ لفّاظی کیا بے منشاو بے معنی ہے......؟ اور پہلی دو صورتوں میں جب تم دس کا