اوریہ سب ظاہر اور روشن باتیں ہیں اور اس سے بڑھ کربرابری اور عدم فرق کی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔۔! کہ خریداری تو قرشوں سے کی جائے اور پھر خریدار کو اختیار دیا جائے کہ چاہے تو ادائیگی قرشوں سے کرے یا ریال سے، خواہ پوری اشرفی ادا کرے یا اس کی ریزگاری، اور اگر بائع نہ مانے تویہ اس کی بے جاہٹ ٹھہرے ،اس کے باوجود کوئی عقلمند یہ وہم نہیں کرسکتا کہ قرش، ریال، اشرفی اور ریزگاری سب کے سب ہم جنس ہیں اور ان کی آپس میں بیع کی صورت میں کمی بیشی ناجائز ہو، یا ان میں سے ہر ایک سکّہ دوسرے میں اس طرح غرق ہے کہ بعینہ دونوں ایک ہی ہیں، لہٰذا اگر کمی بیشی سود نہ بھی ہو تو سود سے مشابہت کے سبب سود کے حکم میں ہو کر حرام ہوجائے گی، حالانکہ تمام علماء کرام نے بالا جماع تصریح فرمائی ہے کہ جنس کے مختلف ہونے کی صورت میں کمی بیشی جائز ہے، بلکہ خود سرکار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان اقدس ہے:۔
(( کہ جب جنسیں بدل جائیں تو جیسے چاہو بیچو))۔