Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
167 - 199
    اوریہ سب ظاہر اور روشن باتیں ہیں اور اس سے بڑھ کربرابری اور عدم فرق کی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔۔! کہ خریداری تو قرشوں سے کی جائے اور پھر خریدار کو اختیار دیا جائے کہ چاہے تو ادائیگی قرشوں سے کرے یا ریال سے، خواہ پوری اشرفی ادا کرے یا اس کی ریزگاری، اور اگر بائع نہ مانے تویہ اس کی بے جاہٹ ٹھہرے ،اس کے باوجود کوئی عقلمند یہ وہم نہیں کرسکتا کہ قرش، ریال، اشرفی اور ریزگاری سب کے سب ہم جنس ہیں اور ان کی آپس میں بیع کی صورت میں کمی بیشی ناجائز ہو، یا ان میں سے ہر ایک سکّہ دوسرے میں اس طرح غرق ہے کہ بعینہ دونوں ایک ہی ہیں، لہٰذا اگر کمی بیشی سود نہ بھی ہو تو سود سے مشابہت کے سبب سود کے حکم میں ہو کر حرام ہوجائے گی، حالانکہ تمام علماء کرام نے بالا جماع تصریح فرمائی ہے کہ جنس کے مختلف ہونے کی صورت میں کمی بیشی جائز ہے، بلکہ خود سرکار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان اقدس ہے:۔

     (( کہ جب جنسیں بدل جائیں تو جیسے چاہو بیچو))۔
( "نصب الرایۃ" لأحادیث" الھدایۃ"، کتاب البیوع، ج۴، ص۷)
     نیز ہم اس مسئلہ کی تحقیق کہ "ایک روپے کو ایک اشرفی کے عوض بیچنے میں نہ سود ہے نہ سود کا شبہ" اس انداز میں بیان کرچکے جس پر مزید زیادتی کی گنجائش نہیں۔ لہٰذا جب قرشوں، ریال، اشرفی اور ریزگاری میں یہ حکم ہے حالانکہ یہ سب ثمن خلقی ہیں اور
Flag Counter