Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
166 - 199
واقع ہوئی جنہیں قرش کہتے ہیں، بلکہ قرش یا دوسرے سکّے جو مالیت میں مختلف ہوں اور چلن میں برابر ہوں ان میں سے اتنے سکّے ادا کردیئے جائیں کہ سو قرشوں کی مالیت کے برابر ہوجائے کافی ہے، نیز یہاں یہ اعتراض ہر گز وارد نہیں ہوگا کہ الیت میں اختلاف اور چلن میں برابری ہی تو فساد ِعقد کا سبب ہے؛کیونکہ یہاں قرشوں سے اندازہ کرنے کی صورت میں ثمن کی مالیت میں اختلاف واقع نہ ہوا ہاں البتہ۔۔۔۔۔۔! اگر قرشوں سے اندازہ نہ کرتے تو اختلاف واقع ہوتا ہے، جیسے کہ اگر کسی جگہ کئی قسم کی اشرفیاں ہوں جو چلن میں یکساں اور مالیت میں مختلف ہوں اور کوئی شخص سو اشرفیوں کے عوض خرید و فروخت کرے تو اس صورت میں مالیت میں اختلاف واقع ہوسکتا ہے، مگر جب قرشوں سے مالیت کا اندازہ کرلیا تو گویا مالیت اور چلن سب یکساں ہوگئے، اور اوپر گزر چکا ہے کہ مشتری کو اختیار ہے کہ ان میں سے جس کے ذریعے چاہے ثمن ادا کرے ۔"بحر الرائق" میں فرمایا کہ اگر بائع ان میں سے کوئی خاص قسم کا سکّہ طلب کرے تو مشتری کو اختیار ہے کہ دوسری قسم کا سکّہ ادا کرے؛ کیونکہ مالیت میں اختلاف نہ ہونے کی وجہ سے مشتری کے ادا کردہ سکّے کو لینے سے انکار بائع کی بے جاہٹ دھرمی ہے۔
 ("رد المحتار"، کتاب البیوع، مطلب: یعتبر الثمن في مکان العقد وزمنہ، ج۷، ص۵۷،۵۸، ملتقطاً)
Flag Counter