کرے"۔ نیز" ہدایہ" میں چلن اور مالیت یکساں ہونے کی مثال ثُنائی اور ثُلاثی سے دی اور" ہدایہ" کے شارحین نے اس پر اعتراض کیا کہ تین کی مالیت دو سے زیادہ ہے۔
تو" بحر الرائق "میں اس کا جواب دیا گیا کہ ثُنائی سے مراد وہ ہے جس کے دو سکّے ایک روپے کے برابر ہوں اورثُلاثی سے مراد جس کے تین سکّے ایک روپے کے برابر ہوں۔
میں کہتا ہوں کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اس نے کوئی چیز ایک روپے کے بدلے خریدی تو چاہے ایک روپیہ پورا ادا کرے، چاہے دو اٹھنیاں، چاہے تین تہائیاں جبکہ سب مالیت اور چلن میں برابر ہوں۔ اسی طرح ہمارے زمانے میں اشرفی کی مالیت کا ثمن تین طرح سے ادا کیا جاسکتا ہے : (۱)پوری اشرفی ۔ (۲) دو نصف اشرفیاں۔
(۳) اشرفی کی چار پاؤلیاں یعنی چار چوتھائیاں ۔ نیز ان سب کی مالیت اور چلن بھی برابر ہے۔ اس تقریر سے ہمارے زمانے میں قرش کے عوض خریدو فروخت کے رواج کا حکم واضح ہوگیا؛ کیونکہ قرش اصل میں چاندی کا ایک سکّہ ہے جس کی قیمت چالیس مصری قطعے ہوتی ہے، اسے مصر میں نصف کہتے ہیں ،وہاں ہر قسم کے سکّوں کی قیمت قرشوں ہی سے لگائی جاتی ہے، لہٰذا کوئی سکّہ دس قرش کا، کوئی کم اور کوئی اس سے زیادہ کا ہوتا ہے ،لہٰذا جب کوئی چیز سو قرش کے عوض خریدی جائے تو مشتری کو اختیار ہے کہ وہ جو سکّہ چاہے دے، خواہ قرش ہی دے یا دوسرے سکّے جن کی مالیت سو قرشوں کے برابر ہو ادا کردے، جیسے ریال یا اشرفی وغیرہما، اور کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ بیع خاص ان سکّوں پر