Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
164 - 199
اور سولہ پیسے یا ایک دو انّی اور چوبیس پیسے یا سب کے بتیس پیسے، یہ نو کی نو صورتیں(۱) سب اُن کے نزدیک برابر ہیں۔

    اورمالیت اور چلن کے یکساں ہونے کی و جہ سے اس میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا، اور یہ صرف عُرف ہی میں نہیں بلکہ شریعت نے بھی خریدار کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ ان میں سے جس صورت سے چاہے ثمن ادا کرے، اور اگر بائع ان میں سے کسی ایک صورت پر راضی نہ ہو اور دوسری صورت مشتری پر لازم کرنا چاہے تو یہ اس کی بے جا ہٹ دھرمی ہوگی، جو ناقابلِ تسلیم ہے" تنویر الابصار" کے اس قول:"مطلق ثمن سے شہر میں سب سے زیادہ چلنے والا سکّہ مراد ہوتا ہے اور اگر وہ سکّے مالیت میں مختلف ہوں اور چلن ایک سا ہو تو عقد فاسد ہوجائے گا "
 (" تنویر الأبصار" مع"الدر المختار"، کتاب البیوع، ج۷، ص۵۶،۵۷)
اس کے تحت علامہ شامی نے فرمایا:" لیکن اگر چلن برابر نہ ہومالیت چاہے مختلف ہو یا نہیں تو عقد
 (Contract)
صحیح ہے، اور جس کا چلن زیادہ ہے وہی مراد ٹھہرے گا، اسی طرح اگر مالیت اور چلن دونوں برابر ہوں تو پھر بھی عقد صحیح ہے، مگر اس صورت میں خریدار کو اختیار ہوگا کہ دونوں قسم کے ثمن
(Currency)
میں سے جس سے چاہے ادا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

۱۔۔۔۔۔۔ ایک نئی ریزگاری چلی ہے جسے اکنّی کہتے ہیں، لہٰذا اٹھنی کے دام چھتیس طریقوں سے ادا ہوسکتے ہیں اورسب برابر ہیں،جیساکہ پوشیدہ نہیں۔
Flag Counter