اور سولہ پیسے یا ایک دو انّی اور چوبیس پیسے یا سب کے بتیس پیسے، یہ نو کی نو صورتیں(۱) سب اُن کے نزدیک برابر ہیں۔
اورمالیت اور چلن کے یکساں ہونے کی و جہ سے اس میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا، اور یہ صرف عُرف ہی میں نہیں بلکہ شریعت نے بھی خریدار کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ ان میں سے جس صورت سے چاہے ثمن ادا کرے، اور اگر بائع ان میں سے کسی ایک صورت پر راضی نہ ہو اور دوسری صورت مشتری پر لازم کرنا چاہے تو یہ اس کی بے جا ہٹ دھرمی ہوگی، جو ناقابلِ تسلیم ہے" تنویر الابصار" کے اس قول:"مطلق ثمن سے شہر میں سب سے زیادہ چلنے والا سکّہ مراد ہوتا ہے اور اگر وہ سکّے مالیت میں مختلف ہوں اور چلن ایک سا ہو تو عقد فاسد ہوجائے گا "