Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
163 - 199
    میں اﷲتعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے یہ کہتا ہوں کہ یہ شبہ تو اور بھی بھونڈا ہے.....! مگر اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں؛ کیونکہ کمان ہی انجان کے ہاتھ میں ہے، ہر وہ شخص جو بچپن کی دہلیز پار کرچکا ہو، جانتا ہے کہ اصطلاحی ثمن کی مالیت کی مقدار کا اندازہ ثمن خلقی
 (Real Money)
ہی سے کیا جاتا ہے، بلکہ ہر قسم کی نقدی کے لئے چاندی کے روپوں ہی سے اندازہ کیا جاتا ہے، خواہ وہ اشرفیاں ہوں یا اور کچھ، اور انہیں روپوں سے کچھ نہ کچھ نسبت ضرور ہوگی، تو ایک ساوَرِن
 (Sovereign)
یعنی انگلستانی سکّہ( پونڈ)، پندرہ روپے کی، اور دو آنے روپے کا آٹھواں حصہ، اورچوَنّی روپے کا چوتھائی، اور اٹھنی روپے کا آدھا، نیز ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے ہیں اور فلاں نوٹ دس روپے کا، تو فلاں سو روپے کا، اِسی پر قیاس
(Analogy)
کرتے جائیں، اور جب ان کا چلن اور مالیت یکساں ہو تو اہل عُرف معاملات میں اُن کے لین دین میں کوئی فرق نہیں کرتے، لہٰذا جو کوئی کپڑا ایک انگریزی پونڈ کے بدلے خریدے اور دے پندرہ روپے یا اس کا عکس تو نہ اسے کوئی تبدیلی کہے گا، اور نہ ہی قرار داد کا پھیرنا ، نہ اس سے بائع انکار کریگا، اورنہ ہی کوئی اور، اسی طرح سے دو آنے اور آٹھ انگریزی پیسے ،اِن کے لین دین میں بھی کوئی فرق نہیں کرتایو ہیں ایک چوَنّی اور سولہ پیسے ،اور جس نے کوئی چیز اٹھنی کی خریدی وہ یا تو خود اٹھنی دے یادو چونیاں یا چار دو انیاں یا ایک چونی اور دو دوانیاں یا ایک چونی اور ایک دوانّی اور آٹھ پیسے یاتین دوانیاں اور آٹھ پیسے یا ایک چونی
Flag Counter