ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= میں اُن کا یہ قصد قرار دینا کہ وہ گویا روپے ہی بیچتے ہیں اُن پر افتراء ہے۔
مولوی صاحب پربارہواں ردّ :خامساً نوٹ بیچنے والا جب قیمت کے روپے لے کر نوٹ نہ دے بلکہ روپے ہی دے تو یہ اُن کے نزدیک بیع کا فسخ ٹھہرتا ہے نہ یہ کہ اُس نے جو چیز بیچی تھی وہی خریدار کو دے رہا ہے اور یہ سب باتیں ہر اس شخص پر روشن وظاہر ہیں جو دائیں اور بائیں میں فرق کرسکتا ہوتوسبحان اﷲ۔۔۔۔۔۔ ! وہ سو روپے جو بیچے عجب مبیع ہیں کہ نہ تو اُن پر خرید و فروخت کا لفظ واقع ہوا، نہ ان کے لین دین کا قصد کیا گیا، اور نہ بائع نے وہ دیے، بلکہ بائع روپے دے تو خریدار نہ لے گا اور مبیع کی ادائیگی نہیں ہوگی، بلکہ اکثر چاندی کے روپے بائع کے پاس ہوتے ہی نہیں تو کیا تم نے دنیا میں کسی ایسے مبیع کے بارے میں سنا ہے جو بِک تو گئی ہو مگر اس پر نہ عقد نہ نقد نہ قصد نہ وجود ۔مگر یہ بات ضرور ہے کہ عقل و فہم کی کمی عجیب و غریب چیزیں لاتی ہے ہم اﷲ تعالیٰ سے معافی و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
مولوی صاحب پرتیرہواں ردّ :یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ مولوی صاحب نے پیسوں اور نوٹ میں جو یہ فرق نکالنا چاہا کہ " اگر وہ چاندی کے ایک روپے کے عوض کوئی چیز خریدے یا کسی سے ایک روپیہ قرض لے اورادا کرتے وقت ایک روپے کے عوض سو پیسے دیدے تو قرض خواہ اور بائع کو روپے کے عوض پیسے لینے یا نہ لینے کا اختیار ہے اور حاکم کی طرف سے اس پر کوئی جبر نہیں ہوسکتا بخلاف نوٹ کے، اگر وہ روپے کے عوض نوٹ دینا چاہے تو بائع کو کوئی اختیار نہیں" یہ فرق بالکل باطل ہے۔نیز انہوں نے یہ دعویٰ کہاں سے کیا اور اس کا قائل کون ہے عنقریب چند سطر بعد اس باب میں جو حق ہے اس کا بیان آئے گا اور بے شک اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔