ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= فائدہ بھی حاصل ہو،جس عقد سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو وہ صحیح نہیں ہوتا، لہٰذا جب دونوں روپے وزن اور مالیت میں برابر ہوں تو اس صورت میں ایک روپے کو ایک روپے کے بدلے بیچنا ناجائز ہے، جیسا کہ" ذخیرہ" میں ہے"۔
(الأشباہ والنظائر،الفن الثانی ،کتاب البیوع،ص۱۷۵)
مولانالکھنوی صاحب پرنواں ردّ : ثانیاًمولوی صاحب ذرا اپنی مسند سے اٹھ کر کسی دن بازار تشریف لے جایئے اور دیکھئے کہ اگر زید نے عَمرو کے ہاتھ کوئی نوٹ بیچا تو اس سے پوچھئے کہ کیا تو نے عَمرو سے یہ کہا تھا کہ میں نے تجھے چاندی سو روپے بیچے؟ وہ فوراً کہے گا کہ نہیں، بلکہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ یہ نوٹ تجھے بیچا،پھر اُس سے پوچھئے کہ کیا تو نے لین دین کرتے وقت اپنے سو روپے کو عَمرو کے سو روپوں سے بدلنے ) (Changeکا قصد کیا تھا؟ وہ فوراً کہے گا کہ نہیں، بلکہ میں نے اپنے نوٹ کو اس کے روپوں سے چینج کرنے کا قصد کیا تھا۔پھر اس سے پوچھئے کہ کیا تم نے عمرو سے اپنے روپوں کی قیمت وصول کی ہے؟ وہ ابھی جواب دیگا کہ نہیں، بلکہ اپنے نوٹ کی، اب پھر اس سے پوچھئے کیا تم اپنی پوٹلی سے اُسے سو روپے دوگے؟ تو وہ یہی کہے گا کہ نہیں، بلکہ اُسے اپنا نوٹ دونگا، اس وقت آپ کو دن اور رات کا فرق معلوم ہوجائے گا۔
مولانا صاحب پردسواں ردّ :ثالثاً کاش ! آپ کو مبیع اور معدوم میں فرق معلوم ہوتا؛ کیونکہ اکثر نوٹ بیچنے والے کے پاس چاندی کے روپے موجود نہیں ہوتے بلکہ چاندی کا ایک روپیہ بھی نہیں ہوتا، لہٰذا اگر اسے سو روپے بیچنا مقصود ہوتے تو یہ نوٹ بیچتے وقت گویا معدوم کی بیع کررہا ہے، حالانکہ معدوم کی بیع باطل (Null) ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا ہے۔
مولانا صاحب پر گیارواں ردّ :رابعاً جسے منی آرڈر کے لئے نوٹ در کار ہو؛کیونکہ منی آرڈر کے ذریعے نوٹ بھیجنا چاندی کے روپے بھیجنے سے آسان بھی ہے اور سستا بھی،جب زید اس کے ہاتھ نوٹ بیچے اور پھراگر زید نوٹ کے بجائے چاندی کے سو روپے دینا چاہے تو خریدار ہرگز نہ لے گا اور کہے گا کہ میں نے تو تجھ سے نوٹ خریدا تھا روپے توخود میرے پاس موجود تھے، مجھے کیا ضرورت ہے کہ تجھ سے چاندی کے روپے خریدوں۔ اس وقت آپ پر آشکار ہوگا کہ نوٹ بیچنے =