| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
یقین کے حکم میں ہوتا ہے، جیسا کہ" ہدایہ" وغیرہ میں منصوص ہے، لہٰذا اگر یہاں شبہ ہوتا تو حرمت واجب ہوجاتی، چہ جائیکہ کراہت تحریمی، نیز ہم اس بات پر دلائل قائم کر چکے ہیں کہ یہاں حرمت تو دور کی بات ہے کراہت تحریمی بھی نہیں ہے۔ لہٰذا ظاہر ہوا کہ یہاں نہ سود ہے اور نہ ہی سود کا شبہ۔
لیجئے اور سنیئے۔۔۔۔۔۔! منع کرنے والے کی سب سے بڑی دلیل تو یہی ہے کہ نوٹ(۱) چاندی کے روپوں میں غرق(Drowned)
ہونے کی و جہ سے گویا روپیہ ہی ہے اور اس میں اور چاندی کے روپے میں کچھ فرق نہیں، اسی لئے لوگ چاندی کے روپے اور نوٹ کے لین دین میں کچھ فرق نہیں کرتے، تو دس کے نوٹ کو بارہ روپے کے عوض بیچنے سے گویا یوں ہوا کہ دس روپے بارہ روپوں کے عوض بیچے گئے، اور یہ بے شک سود ہے، لہٰذا اگر دس کا نوٹ بارہ کے عوض بیچنا سود نہ بھی ہو توسود کی مشابہت کے سبب سود سے لاحق ہو کر حرام ہوجائے گا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔۔۔۔۔۔ بلکہ مولانا لکھنوی صاحب کا یہ گمان ہے کہ جب سو روپے کا نوٹ بیچا جاتا ہے تو اس بیع سے اس کاغذ کی قیمت لینا مقصود نہیں ہوتا بلکہ مقصود سو روپیہ بیچنا اور اس کی قیمت وصول کرنا ہوتا ہے۔
مولانا لکھنوی صاحب پرآٹھواں ردّ : اولاً اگر معاملہ لکھنوی صاحب کے گمان کے مطابق ہوتا تو چاندی کے روپوں کے بدلے نوٹ بیچنا بالکل جائز نہ ہوتا؛کیونکہ اب یہ معاملہ انگریزی سو روپے کو انگریزی سوروپوں کے عوض بیچنے کی طرح ہوگیا، حالانکہ انگریزی روپوں میں باہم کوئی فرق نہیں ہوتا، لہٰذا یہ سو روپے دے کر وہ سو روپے لینا بالکل بے فائدہ ہے، حالانکہ شرع بے فائدہ چیزوں کو مشروع نہیں فرماتی۔" اشباہ" میں ہے :" عقد اس وقت صحیح ہوتا ہے جب اس سے کوئی =