Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
159 - 199
قسم کے سکوں میں سے جس سے چاہے کرلے، لہٰذا جب ان میں سے ایک کا چلن جاتا رہا تو باقی دو میں سے جس سے چاہے ادا کردے ۔

میں کہتا ہوں کہ یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ ان کا یہ فرمان کہ" تہائی دَین اُتار دیا جائے (یعنی تہائی دین باقی ہی نہ رہے ) ـلغزش ہے"، اور انہوں نے روپوں کی گنتی میں ہونے والے ظاہری تغیر پر نظر فرما کر یہ کہہ دیا کہ :"ایک سو بیس کی جگہ نئے اَسّی روپے ادا کریگا"ورنہ مالیت میں تو اصلاً تغیر نہیں ہوا تھا، دوسرا یہ کہ اگر قرضدار کے ذمہ خاص پرانے روپے ہی لازم ہونا مان لئے جائیں تو سود اس طرح دور ہوسکتا ہے کہ قرض دارنئے روپوں یا قرش کے ساتھ مثلاً ایک پیسہ ملا کر دیدے، نیز فاضل عبد الحلیم نے لوگوں کو یہی فتویٰ دیا اور اسے پوری آسانی بلا دشواری بتایا، اور کراہت تحریمی کے بعد کونسی آسانی ہے.....!

    لہٰذا جو معنی ہم نے بیان کئے ان کے سواء کوئی چارہ نہیں، اور بے شک توفیق تو اﷲ ہی کی طرف سے ہے۔ بالجملہ یہ شبہات قابلِ ذکر تو نہ تھے مگر چونکہ ان کے جوابات سے چمکتے ہوئے فائدے ظاہر ہوئے اس لئے ذکر کردیئے۔

    میں کہتا ہوں الحمدﷲ اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ دس کا نوٹ بارہ روپے کے عوض بیچنا تو درکنار ایک اشرفی ایک روپے بلکہ ایک پیسے کے عوض بیچنے میں سود توسود اس کا شبہ بھی نہیں، بخلاف لکھنؤی صاحب کے گمان کے؛ کیونکہ حرام چیزوں میں شبہ بھی