Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
158 - 199
 (Gold Coin)
نہ ہو،اور نہ اُسے ملتی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرض اشرفی کی مالیت سے کم ہو، لہٰذاادائیگی  قرض میں دشواری ہوگی،حالانکہ جو ثمن زمانہ عقد میں رائج تھے وہ پرانے روپے کے علاوہ بدستور رائج ہیں نہ ان کا چلن گھٹا اور نہ ہی بند ہوا، مگر یہ ضرور ہوا کہ نئے روپوں کے سبب ان کی مالیت کم ہوگئی، لہٰذا مدیون( قرضدار) کو کیونکر مجبور کیا جائے گاکہ خاص اشرفی ہی سے اپنا دَین ادا کرے.....؟ لہٰذا ظاہر ہوا کہ پہلا فتویٰ صحیح اور آسان ہے اور اس میں کوئی دشواری نہیں۔ہاں۔۔۔۔۔۔ !اگر یہ مان لیا جائے کہ نئے روپے یا قرش سے قرض ادا کرنیکی صورت میں حقیقتہً یا حکماً سود ہے ؛کیونکہ دونوں کا وزن برابر نہیں یا برابری کا علم نہیں- تو اس مفروضے کو اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ نئے روپے یا قرش کے ساتھ مثلاً ایک پیسہ ملا کر دیا جائے تو اب اس قرض کی ادائیگی کاجواز

کسی پر پوشیدہ نہیں۔             ( "حاشیۃ الدرر" لعبد الحلیم)

اوریہ مسئلہ" درمختار" وغیرہ میں مذکور ہے اور صاحب" در مختار" نے سعدی ا فندی ہی کے فتوی کو اختیار فرمایا کہ قرض دارکو اشرفی ہی سے قرض ادا کرنا واجب ہے، اور علامہ شامی علامہ عبد الحلیم کی رائے کی طرف مائل ہوئے، اور اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ اول تو ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ قرض دار کے ذمّے خاص پرانے روپے ہی دینا واجب تھے ،تاکہ نئے روپے یا قرش سے ادا کرنے کی صورت میں سود
(Usury)
ٹھہرے جبکہ وہ پرانے روپوں سے وزن میں برابر نہ ہوں ،بلکہ اتنی مالیت لازم تھی جس کا اندازہ ان تین
Flag Counter