میں پرانے روپوں کی جو قیمت تھی اُتنی قیمت کی اشرفیاں دی جائیں، مثلاً ہر دو سو چالیس روپے کے بدلے ایک اشرفی دی جائے اور نیا روپیہ یا" قرش" دینا جائز قرار نہ دیا، اور تصریح فرمائی کہ اگلے مسئلہ میں یا تو حقیقۃً سودہے یا اس کا شبہ ہے۔ ( "حاشیۃ الدرر" لعبد الحلیم)
پھر علامہ عبد الحلیم نے کہا کہ علماء کرام -رحمہم اﷲ -نے پہلےجو فتویٰ دیا وہ بھی
صحیح ہے اور اس میں زیادہ آسانی بھی ہے اور ادائے دَین کے دائرے میں وسعت(Capacity)
بھی، اور اس کے صحیح ہونے کی و جہ یہ ہے کہ پرانے روپوں کا چلن کسی فرق
(Difference)
کے بغیر بالکل اشرفی اور قرش کی طرح تھا، لہٰذا ثابت ہوا کہ مدیون پر دَین بھی اسی تفصیل سے ٹھہرے گا، اور دَین کا حاصل یہ ہوگا کہ اتنی مقدار کا مال لازم ہے، خواہ کسی بھی نوع سے ہو، پرانے روپے ہوں یا اشرفی یا پھر قرش، جیسا کہ علماء کرام -رحمہم اﷲ - نے مختلف سکوں کے چلن میں برابر ہونے کی صورت میں اس حکم کی تصریح فرمائی ہے کہ جب پرانے روپوں کا چلن بند کردیا گیا اور نئے روپے چلنے لگے اور قرش و اشرفی کی مالیت کم ہوگئی جیسا کہ اوپر بیان ہوئی ، تو دَین بھی اتنا ہی ا تر جائے گا، اور اس فتوی میں ادائے قرض کے دائرے میں وسعت اور پوری آسانی ہے؛ کیونکہ قرض دار جس نوع
(Species)
سے ادائیگی قرض پر قدرت رکھے گا اُسی سے قرض ادا کردے گا، بخلاف دوسرے فتویٰ کے؛ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ قرض دار کے پاس اشرفی