اگر ان کی عبارت کو اس معنی پر محمول نہ کیا جائے تو انکا کلام خود اپنے نفس کا مناقض ہوگا؛ کیونکہ انہوں نے اس کلام کے ایک ورق بعد سلطنت عثمانیہ کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے کہ پرانے چاندی کے روپے جن میں کھوٹ ہو اور چاندی غالب ہو، انہیں نئے کھرے روپوں سے بدلتے ہیں، اور ان نئے روپوں کے چلن کے بعد پرانے روپوں سے لین دین کرنا منع کردیا جاتا ہے، اور ان پرانے روپوں کا کھوٹا پن اس قدر ہے کہ ایک بڑا رومی روپیہ جسے" قرش" کہتے ہیں، اِن پرانے کے ایک سو بیس روپوں کے برابر ہوتا ہے، اور ایک اشرفی دو سو چالیس روپوں کے برابر ہوتی ہے، جب نئے روپے چل جاتے ہیں تو" قرش"کی قیمت ان نئے روپوں سے اَسّی روپے رہ جاتی ہے اور اشرفی ایک سو بیس کی، تو لوگوں کا وہ لین دین جو پرانے روپوں کے زمانے میں ہوا تھا اُس میں بڑا جھگڑا پڑجاتا ہے۔ تو علماء محروسہ" قسطنطنیہ " رحمہم اللہ میں سے ہمارے اگلے سرداروں نے یہ فتویٰ دیا کہ تہائی دَین اُتار دیں (یعنی ایک تہائی دین مِنہاکرکے باقی دین ادا کریں)تو ایک سو بیس پرانے روپوں کے قرض کی جگہ مدیون قرض خواہ کو نئے اَسّی روپے یا ایک" قرش" دیدے اور دو سو چالیس پرانے روپوں کے عوض ایک اشرفی یا دو" قرش "ادا کردے، لہٰذا اِسی فتویٰ پر عمل ہوتا رہا۔
یہاں تک کہ ہمارے استاذ مرحوم اسعد بن سعد الدین کے ِفتوی دینے کا وقت