Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
155 - 199
ملاقات اسے سلام کرے(۲) وہ دعوت کرے تو یہ اسے قبول کرے یا وہ اسے پکارے تو اس کا جواب دے(۳) جب اسے چھینک آئے اور وہ" الحمدﷲ" کہے تو یہ اس کے جواب میں "یرحمک اﷲ"کہے(۴) بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو جائے(۵) اس کی موت پر حاضر ہو(۶) اگر وہ اس سے نصیحت چاہے تو اسے نصیحت کرے)) پھر محقق صاحب نے فرمایا کہ اس حدیث میں وجوب کو ایسے معنی پر محمول کیا جائے گا جو وجوب کے فقہی معنی سے عام ہو؛ کیونکہ حدیث کے ظاہر ی معنی تو یہ ہیں کہ ملاقات کی ابتداء میں سلام کرنا واجب ہو، اور نماز جنازہ فرضِ عین ہو، مگر حدیث کی مراد یہ ہے کہ یہ حقوق مسلمان پر ثابت ہیں، خواہ مستحب ہوں یا واجب فقہی ـ۔
 ("فتح القدیر"، کتاب أدب القاضي، قبیل فصل في الحبس، ج۶، ص۳۷۳۔"المعجم الکبیر" للطبراني، مسند أبي أیوب الأنصاري، رقم الحدیث: ۴۰۷۶، ج۴، ص۱۸۰)
    نیز علامہ عبد الحلیم کی عبارت میں وجوب کے یہ معنی(مستحب ہونا) لینا ہمارے قائم کردہ دلائل کے سبب ضروری ہیں اور اگر آپ اسے ظاہر پر ہی محمول مانیں تو سن لیں کہ یہ علامہ عبد الحلیم رحمہ اللہ کی اپنی ایک سمجھ ہے جس پر انہوں نے کوئی نقلی سند
 (Referenced Evidence)
پیش نہیں کی اور ان کی فہم شرع میں حجت نہیں، خصوصاً جبکہ ان کے موقف کے خلاف دلائل قائم ہوچکے ہوں ۔
Flag Counter