ملاقات اسے سلام کرے(۲) وہ دعوت کرے تو یہ اسے قبول کرے یا وہ اسے پکارے تو اس کا جواب دے(۳) جب اسے چھینک آئے اور وہ" الحمدﷲ" کہے تو یہ اس کے جواب میں "یرحمک اﷲ"کہے(۴) بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو جائے(۵) اس کی موت پر حاضر ہو(۶) اگر وہ اس سے نصیحت چاہے تو اسے نصیحت کرے)) پھر محقق صاحب نے فرمایا کہ اس حدیث میں وجوب کو ایسے معنی پر محمول کیا جائے گا جو وجوب کے فقہی معنی سے عام ہو؛ کیونکہ حدیث کے ظاہر ی معنی تو یہ ہیں کہ ملاقات کی ابتداء میں سلام کرنا واجب ہو، اور نماز جنازہ فرضِ عین ہو، مگر حدیث کی مراد یہ ہے کہ یہ حقوق مسلمان پر ثابت ہیں، خواہ مستحب ہوں یا واجب فقہی ـ۔