| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
فساد (Incorrectness)کے خوف سے ایسی چیز کو چھوڑنا جس میں خرابی نہ ہو احتیاط ہی ہے اور یہ اسی طرح حاصل ہوگی جیسے انہوں نے فرمایا، لہٰذا یہ وجوب احتیاط کے واجبات سے ہوا؛ کیونکہ کسی شئے کے لیے واجب وہی ہوتا ہے جس کے بغیر وہ شئے حاصل نہ ہوسکے۔
دوسرا جواب
اکثر عُرف میں مستحب کو بھی واجب کہتے ہیں، اور "در مختار" کا یہ قول کہ "نماز عید کے بعد تکبیر کہنے میں کوئی حرج نہیں"بھی اسی قبیل سے ہے؛کیونکہ یہ طریقہ مسلمانوں میں سلف سے چلا آرہا ہے، لہٰذا اُن کی پیروی واجب ہوئی۔
("الدر المختار" في شرح" تنویر الأبصار"، کتاب الصلاۃ، باب العیدین، ج۳، ص۷۵)اور علامہ شامی نے دوسری جگہ اسکی یہ نظیر بیان فرمائی کہ عُرف میں یہ کہتے ہیں کہ" تیرا حق مجھ پر واجب ہے" نیز "فتح القدیر" کی کتاب "ادب القاضی" میں" ہدایہ" کے اس قول :"قاضی جنازہ پر حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کو جائے" کے نیچے امام بخاری کی کتاب "ادب المفرد" کی یہ حدیث حضرت ابو ایوب انصاری- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- سے ذکر فرمائی کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ(( بے شک مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق واجب ہیں اگر ان میں سے کوئی چیز چھوڑے تو اپنے بھائی کا ایک حق چھوڑے گا جو اُس کے لیے اِس پر واجب تھا (۱) وقت