Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
153 - 199
دسویں دلیل
"رد المحتار" کے باب الربا میں "ذخیرہ" کے حوالے سے ہے کہ "اگر کوئی نانبائی کو گیہوں اکٹھے دیدے اور روٹی تھوڑی تھوڑی کرکے لیناچاہے تو مناسب یہ ہے کہ گیہوں والانانبائی کے ہاتھ انگوٹھی یا چاقو ہزار من گیہوں کی روٹی کے عوض بیچے "اور چاقو یا انگوٹھی نانبائی کے حوالے بھی کردے تواب نانبائی پر ہزار من گیہوں کی روٹی ذمہ پر لازم ہو گئی اور نانبائی انگوٹھی کو ہزار من گیہوں کے بدلے گیہوں والے کے ہاتھ بیچ دے ۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الربا، ج۷، ص۴۳۸)
    بھلا کہاں چاقو اور کہاں ہزار من گیہوں کی روٹی.....! اور اس طرح کے بے شمار نظائر ہم بیان کرنا شروع کردیں تو احاطہ نہ کرسکیں گے، اور یہ جو ہم چھٹی دلیل سے دسویں دلیل تک اُتر آئے اس کی و جہ یہ ہے کہ وہ جو علماء کرام نے فرمایا تھاکہ " جس جانب وزن کی کمی ہے اس میں کوئی اور چیز ملادی جائے" تو یہ بات ان کے کلام میں مطلق ہے، خواہ وہ چیز ثمن ہو یا مَتاع اور اموال ربا سے ہو یا نہیں، خلاصہ یہ کہ مبیع اور ثمن میں مالیت کی زیادہ سے زیادہ کمی بیشی جائز ہے تویہ اس مسئلہ کے تحقیق کی انتہاء ہے۔

جہاں تک فاضل عبد الحلیم کے کلام کا تعلق ہے تو میں اس کا پہلا جواب یہ دوں گا۔
پہلا جواب
حصولِ احتیاط کے لئے کسی چیز کاوجوب فی نفسہ اس کا وجوب نہیں، اور بے شک
Flag Counter