Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
152 - 199
"فتاویٰ قاضی خان" اور" فتاوی عالمگیری "میں ہے۔
 ("الفتاوی الھندیۃ"، کتاب البیوع، الباب السابع عشر في بیع الأب والوصي...إلخ، ج۳، ص۱۷۵، ۱۷۶ملخصاً۔ " الفتاوی الخانیۃ"، کتاب البیوع، فصل في بیع الوصی وشرائہ، ج۲، ص۴۱۳، ملخصاً)
     اور اگر وصی یتیم کا مال کسی دوسرے کو بیچنا چاہے اور نابالغ کو اس کی قیمت کی ضرورت نہ ہو اور نہ مورِث پر کوئی ایسا دین (قرض)ہو کہ اسے بیچے بغیر ادا نہ کیا جاسکے گا، تو اس صورت میں اس بیع کے جائز ہونے کے لیے علماء کرام نے یتیم کے مال کو دگنی قیمت پر بیچنا شرط قرار دیا ہے۔" ہندیہ" میں "محیط سرخسی" کے حوالے سے نقل ہے کہ اسی پر فتوی ہے۔
("الفتاوی الھندیۃ"، کتاب البیوع، الباب السابع عشر في بیع الأب والوصي، ج۳، ص۱۷۶)
    لہٰذا مالیت کی اس کمی بیشی کا حکم خودشرعِ مطہَّر کی طرف سے ہے۔
نویں دلیل
    وہ قول ہے جو "فتح القدیر" وغیرہ قابلِ اعتماد کُتُب کے حوالے سے گزرا کہ "اگر کاغذ کا ایک ٹکڑا ایک ہزار روپے کے عوض بیچے تو یہ خرید و فروخت جائز ہے، اور بالکل مکروہ نہیں ہے"۔
 ("فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان،ج۶، ص۳۲۴)
Flag Counter