دو ہزار کے عوض بیچے اور قرض خواہ اسے بازار میں ہزار روپے میں بیچ دے ،تاکہ وہ مَتاع قرض دینے والے کی طرف نہ لوٹے؛کیونکہ بذات خود وہی متاع لوٹنے کی صورت صاحب "فتح القدیر" کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے، اگرچہ اس میں کلام کی گنجائش ہے
کیونکہ اپنی بیچی ہوئی چیز کو قیمت فروخت سے کم میں خریدنا بالا جماع جائز ہے، جبکہ تیسرا شخص متوسط ہے، اور علماء نے اپنی بیچی ہوئی چیز کو قیمت فروخت سے کم میں خرید نے کی صورت کو گناہ قرار نہیں دیا، امام فقیہ النفس قاضی خان کے حوالے سے یہ بات اوپر گزر چکی ہے، جہاں انہوں نے حرام سے بھاگنے کے حیلے بیان فرمائے ہیں اور اگر گناہ باقی رہے تو حیلہ کہاں پورا ہوا۔ تحقیق علامہ عبد الحلیم نے " درر" کے حواشی میں حرام سے بچنے کے حیلوں میں فرمایا کہ ظاہر یہ ہے کہ اس میں کراہت تنزیہی ہے، چاہے دیا گیا مَتاع
بعینہ دینے والے کی طرف لوٹے، یا اس کا کچھ حصہ لوٹے ،یا بالکل نہ لوٹے۔
("حاشیۃ الدرر" لعبد الحلیم)