Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
150 - 199
ساتویں دلیل
     مذکورہ بیع عینہ کہ جس کی بنیاد ہی مالیت میں کمی بیشی پر ہے اس میں یہ قید نہیں کہ دس روپوں کے عوض بارہ یا تیرہ روپے وصول کریں، جیسا کہ " فتاویٰ قاضی خان" میں ہے، یا پندرہ روپے، جیسا کہ" فتح القدیر" میں ہے، بلکہ اس بیع میں دو چار گنا چیز وصول کرنے کی صورت بھی بیان کی گئی ہے" فتح القدیر" میں ہے کہ بیع عینہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی شخص ،مثلاً زید اپنا مَتاع قرض خواہ بکر کے ہاتھ ایک مدّت معیّنہ تک کے لئے دو ہزار کے عوض بیچے، پھر کسی درمیانی شخص مثلاً عمر کو قرض خواہ بکر کی طرف بھیجے اور وہ اِس قرض خواہ سے اپنے لئے اِس مَتاع کو ایک ہزار روپے نقد کے عوض خرید کر قبضہ کرلے اور یہ درمیانی شخص یعنی عمر پہلے شخص زید کو یہ مَتاع ایک ہزار کے عوض بیچ دے پھر یہ عمر اپنے بائع (قرض خواہ) بکر کا ثمن جو کہ ہزار روپے نقد ہیں (پہلے بائع) زید کے ذمہ پر ڈال دے تو یہ زید (پہلا بائع) ہزار روپے عمر کی طرف سے بکر( قرض خواہ) کو دیدے، اور مدت معیّنہ پوری ہونے پر دو ہزار اس سے وصول کرے ۔
 ("فتح القدیر" في شرح" الھدایۃ"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴)
    تو جب دگنا منافع جائز ہوا تو کئی گنا بھی جائز ہے۔ میرے خیال میں اس درمیانی شخص کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرض خواہ کو ہزار روپے والی چیز
Flag Counter