Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
149 - 199
مالیت ہی سے متعلق ہے جب انہیں زیادہ مالیت حاصل ہوگئی تو وہ اپنی مراد کو پہنچے، اور وزن کی کمی بیشی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، لہٰذا ظاہر ہوگیا کہ شرع مالیت میں زیادتی کی طرف اصلاً نظر نہیں فرماتی تو یہ ممکن ہی نہیں کہ شرع مالیت کی زیادتی کو مکروہ تحریمی قرار دے اور یہی تو ہمارا مقصود ہے۔
چھٹی دلیل
    تمام متون بالاتفاق اس تصریح سے لبریز ہیں کہ ایک پیسے کو دوپیسوں کے عوض بیچنا جائز ہے، نیز" بحر الرائق "میں فرمایا کہ ان کی مراد خاص یہی نہیں کہ ایک پیسے کو دو پیسوں کے عوض، بلکہ کمی بیشی حلال ہونے کا بیان مقصود ہے، یہاں تک کہ اگر ایک پیسہ سو معین پیسوں کے عوض بھی بیچا جائے تو امام اعظم اور امام ابو یوسف- رضی اﷲ تعالیٰ عنہما- کے نزدیک حلال ہے۔
 ("البحر الرائق"، کتاب البیوع، باب الربا، قولہ (والفلس بالفلسین بأعیانھما) ج۶، ص۲۱۹، )۔
    اور تمہیں مالیت میں کمی بیشی کے جائز ہونے پر اس سے بڑی اورکونسی دلیل درکار ہے ۔ والحمد ﷲ۔اور ہاں۔۔۔۔۔۔! علماء کرام -رحمہم اللہ تعالی- نے تصریح فرمائی ہے کہ کبھی حلال اور مکروہ تنزیہی دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔
Flag Counter