Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
148 - 199
لہٰذا اس صورت میں یہ بات سامنے آئے گی کہ شرع نے گناہ کو واجب کیا حالانکہ مکروہ تحریمی ممنوع ہے اور اس کا کرنا" بحر الرائق" و" درمختار" وغیرہما کی تصریح کے مطابق اگرچہ " گناہ صغیرہ" ہے مگر اس کی عادت ڈالنے سے "گناہ کبیرہ" ہوجاتاہے ، اور بے شک شرع گناہ کا حکم دینے اور گناہ کے ارتکاب کو واجب قراردینے سے بلند و بالا ہے، بخلاف مکروہ تنزیہی کے؛ کیونکہ وہ مباح ہوتا ہے اورقطعاً گناہ نہیں،بلکہ بعض اوقات انبیاء کرام- علیہم الصلوٰۃ والسلام- قصداً اس کے جواز کو ظاہر کرنے کے لئے اسے کرتے بھی ہیں، اور اِنہی علامہ لکھنوی کا قدم" حقہ" کے بارے میں لکھے گئے رسالہ میں پھِسلا تو انہوں نے مکروہ تنزیہی کو" گناہ صغیرہ" اور اس پر اصرار کو "گناہ کبیرہ" ٹھہرا دیا، اور یہ بالکل واضح غلطی ہے ،اور اس کا عیب میں نے اپنے ایک مستقل رسالہ
"جمل مجلیۃ أنّ المکروہ تنزیھاً لیس بمعصیۃ"
میں تفصیل سے بیان کردیا ہے۔

    اور یہ عذر پیش کرنا کہ جنس ایک ہونے کی صورت میں شرع نے مالیت کے اعتبار کو ساقط کردیا ہے انہیں کچھ نفع نہ دے گا ؛کیونکہ یہی تو اصل بحث ہے کہ اگر شرع کی نظر میں مالیت کی زیادتی گناہ کا باعث تھی تو اس کا اعتبار کیوں ساقط فرمادیا، حالانکہ اس میں خود مقصود شرع کو باطل کرنالازم آتا ہے ؟اور مقصود کیا ہے۔۔۔۔۔۔!؟ یہی ناکہ لوگوں کا مال بچایا جائے، اور مال کا دارو مدار مالیت ہی پر ہوتا ہے، لہٰذا مالیت کا اعتبار ساقط کرنے سے سود خوروں کو ان کے مقصودِ فاسد تک پہنچانا لازم آئے گا؛ کیونکہ ان کی غرض تو صرف
Flag Counter