لہٰذا اس صورت میں یہ بات سامنے آئے گی کہ شرع نے گناہ کو واجب کیا حالانکہ مکروہ تحریمی ممنوع ہے اور اس کا کرنا" بحر الرائق" و" درمختار" وغیرہما کی تصریح کے مطابق اگرچہ " گناہ صغیرہ" ہے مگر اس کی عادت ڈالنے سے "گناہ کبیرہ" ہوجاتاہے ، اور بے شک شرع گناہ کا حکم دینے اور گناہ کے ارتکاب کو واجب قراردینے سے بلند و بالا ہے، بخلاف مکروہ تنزیہی کے؛ کیونکہ وہ مباح ہوتا ہے اورقطعاً گناہ نہیں،بلکہ بعض اوقات انبیاء کرام- علیہم الصلوٰۃ والسلام- قصداً اس کے جواز کو ظاہر کرنے کے لئے اسے کرتے بھی ہیں، اور اِنہی علامہ لکھنوی کا قدم" حقہ" کے بارے میں لکھے گئے رسالہ میں پھِسلا تو انہوں نے مکروہ تنزیہی کو" گناہ صغیرہ" اور اس پر اصرار کو "گناہ کبیرہ" ٹھہرا دیا، اور یہ بالکل واضح غلطی ہے ،اور اس کا عیب میں نے اپنے ایک مستقل رسالہ