ہو، جبکہ کھرے کی قیمت کھوٹے سے اتنی زیادہ ہو جس میں لوگ ایک دوسرے سے غبن نہ کھائیں، جیسے کھرے کی مالیت کھوٹے سے دوگنی یا کئی گنا زیادہ ہو؛ کیونکہ کراہت تحریمی کا وہ سبب یہاں بھی یقینا پایا جارہا ہے اور کسی شئے کا حکم اپنے سبب سے جدا نہیں ہوتا؛ کیونکہ شرعِ مطہَّر نے کھوٹے اور کھرے کے وزن میں برابری کا حکم دیا ہے، اسی طرح سے وہ چیز جو صنعت کاری
کے سبب مالیت میں بڑھ جائے یہاں تک کہ اس کے ہم وزن پتّریا روپوں سے کئی گنا زیادہ ہوجائے تو اُس میں وزن کی برابر ی اسی کراہت تحریمی کا سبب ہوگا جو تم نے قرار دی ہے، حالانکہ وزن میں برابر ہونا شرعاً واجب ہے،