Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
147 - 199
چوتھی دلیل
    وہ عبارت ہے جو ہم" فتاویٰ قاضی خان" کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ روپے کے عوض ایک پیسہ دیدے تو یہ جائز ہے اور اس سے امان حاصل ہوجائے گی تو گناہ کے بعد کونسی امان ہے؟
پانچویں دلیل
    مثلاً اشرفی اور چاندی کے روپے یا پیسے اور اشرفی میں کمی بیشی نہیں مگر مالیت کی تو اگر اس سے کراہتِ تحریمی لازم ہوتی اس بنا پر کہ دونوں عاقدَین میں سے ایک نے وہ پایا جو مالیت اور نفع میں زائدہے تواُس کو اِس پر زیادتی رہی تو واجب ہوگا کہ کھرے اور کھوٹے کا وزن میں برابر ہونا بھی مکروہ تحریمی
 (Disagreeable)
ہو، جبکہ کھرے کی قیمت کھوٹے سے اتنی زیادہ ہو جس میں لوگ ایک دوسرے سے غبن نہ کھائیں، جیسے کھرے کی مالیت کھوٹے سے دوگنی یا کئی گنا زیادہ ہو؛ کیونکہ کراہت تحریمی کا وہ سبب یہاں بھی یقینا پایا جارہا ہے اور کسی شئے کا حکم اپنے سبب سے جدا نہیں ہوتا؛ کیونکہ شرعِ مطہَّر نے کھوٹے اور کھرے کے وزن میں برابری کا حکم دیا ہے، اسی طرح سے وہ چیز جو صنعت کاری
 (Designing)
کے سبب مالیت میں بڑھ جائے یہاں تک کہ اس کے ہم وزن پتّریا روپوں سے کئی گنا زیادہ ہوجائے تو اُس میں وزن کی برابر ی اسی کراہت تحریمی کا سبب ہوگا جو تم نے قرار دی ہے، حالانکہ وزن میں برابر ہونا شرعاً واجب ہے،
Flag Counter