| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
(۳) اس چیز کی مقدار اتنی کم ہو کہ اُس کی مالیت بھی اُس کے مقابل چیز سے کم ہوجائے۔
(۴) اس کی مقدار اس حد تک کم ہو کہ دونوں مالیت میں برابر ہوجائیں۔
تو تمام علماء نے فقط جنس مختلف ہو نے کی صورت میں کمی بیشی کے جائز ہونے کی تصریح فرمائی ہے اور اس جواز کو کسی خاص صورت کے ساتھ مقید(Limited)
نہیں فرمایا ،چنانچہ یہ جواز چاروں صورتوں کو شامل ہوگا،اگر وہاں کراہت تحریمی ہوتی تو چاروں صورتوں میں صرف ایک یعنی چوتھی صورت حلال ہوتی، پھر یہاں ایک صورت اور بھی ہے وہ یہ کہ دو جنسیں جب مقدار میں برابر ہوں اور ان کی مالیت بھی برابر ہو تو بھی علماء نے کمی بیشی کے حلال ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور وہ اس صورت میں مالیت کی کمی بیشی کو لازم کرتا ہے، لہٰذا اس بیع عینہ کا حلال ہونا واجب ہوا۔
تیسری دلیل
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:۔
(( جب جنس مختلف ہو تو جیسے چاہو خرید و فروخت کرو)) (" نصب الرایۃ" لأحادیث" الھدایۃ"، کتاب البیوع، ج۴، ص۷)تو کون ہے جو اس صورت کو گناہ اور مکروہ تحریمی
(Abominable)
قرار دے گا.....؟ حالانکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی اجازت عطا فرماچکے ۔