Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
145 - 199
علیہم اجمعین- نے اسے کیا اور اس کی تعریف بھی فرمائی"۔
                 ("حاشیۃ الد رر" لعبد الحلیم)
     ان کی عبارت کے طرزِ کلام سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ "حرام سے بھاگنے کا حیلہ کرنا مستحب ہے" یہ جملہ بھی امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالیٰ- ہی کا کلام ہے- واﷲ تعالیٰ اعلم- اور یہ صورت مذکورہ کے مکروہ تحریمی نہ ہونے کی پہلی دلیل ہے۔
دوسری دلیل
     جمہور علماء کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ جب قدر یا جنس میں سے کوئی ایک چیز نہ پائی جائے تو زیادتی حلال ہوتی ہے، اور یہ بات یقینا ظاہر ہے کہ اشرفی اور چاندی کا روپیہ یا اشرفی اور پیسہ ایک جنس نہیں لہٰذا اس صورت میں زیادتی کا حلال ہونابالکل جائز ہے ، کراہت تحریمی کدھر سے آئے گی.....؟
مقدار میں کمی بیشی کی چار صورتیں ہیں 

اور جنس مختلف ہوتو چاروں جائز ہیں
تحقیق کے مطابق زیادتی کی چار صورتیں ہیں۔

(۱) جس چیز کی مالیت زیادہ ہو اسی کی مقدار بھی زیادہ ہو۔ 

(۲) اس چیز کی مقدار تو کم ہو مگر مالیت اب بھی زیادہ ہو بلکہ کئی گنا زیادہ ہو، جیسے اشرفی کی مالیت روپے کے مقابلے میں۔
Flag Counter