Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
144 - 199
میں کہتاہوں کہ تجارت تو اپنے رب کے فضل کو تلاش کرنے ہی کا نام ہے، اور خریدتے وقت قیمت میں کمی کرانا سنّت ہے۔

     نیزبے شک رسول اﷲ- صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم- نے فرمایا کہ:۔

    (( غبن کھانے میں نہ ناموری ہے اور نہ ہی ثواب))
 ("المعجم الکبیر" للطبراني، مسند حسن بن علي، رقم: ۲۷۳۲، ج۳، ص۸۳۔

"تاریخ بغداد أو مدینۃ السّلام"، أحمد بن طاہر بن عبد الرحمٰن...إلخ، رقم: ۲۲۱۷، ج۴، ص۴۳۴)
        یہ حدیث اصحابِ سُنن نے امام حسین اور طبرانی نے اپنی "معجم "میں امام حسن اور خطیب نے مولا علی کرم اﷲ تعالیٰ وجوہہم الکرام سے روایت کی، لہٰذا بیع عینہ زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہوسکتی ہے،اور اس میں انتہا ئی درجہ صرف کراہت تنزیہی ہے ورنہ صحیح حدیث سے تو یہی بات ثابت ہے کہ صحابہ کرام -رضی اﷲ تعالیٰ عنہم -نے بیع عینہ کی، اور اس بیع کی تعریف بھی فرمائی ۔

    اور علامہ عبد الحلیم نے جو کہ علامہ شرنبلالی - رحمہما اﷲ تعالیٰ-کے ہم عصر ہیں،انہوں حاشیہ" درر" میں لکھا کہ امام ابو یوسف - رحمہ اﷲ تعالیٰ-کی روایت کچھ اس طرح سے ہے کہ" بیع عینہ جائز اور ثواب کا کام ہے ؛کیونکہ اس میں حرام سے بھاگنا ہے اور حرام سے بھاگنے کا حیلہ کرنا مستحب ہے اور بکثرت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی
Flag Counter