| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
("حاشیۃ أفندي" ھامش" فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، ج۶، ص۳۲۴)اور" ہدایہ" و" تبیین "و" درمختار" وغیرہا میں بیع عینہ کے مکروہ ہونے کی فقط یہ دلیل مذکور ہے کہ اس میں قرض دینے کے نیک سلوک سے روگردانی ہے،" ہدایہ" میں اتنا زیادہ فرمایا کہ:" بخل مذموم کی پیروی کرکے نیک سلوک سے روگردانی ہے"۔
("الھدایۃ" في شرح "بدایۃ المبتدي"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۳، ص۹۴۔"تبیین الحقائق" في شرح "کنز الدقائق"، کتاب الکفالۃ، فصل، ج۵، ص۵۴۔"الدر المختار "في شرح "تنویر الأبصار"، کتاب الکفالۃ، قولہ (کفیلہ ببیع العینۃ) ج۷، ص۶۵۵)اور تجھے معلوم ہے کہ نیک سلوک سے روگردانی کرنا کراہت تحریمی کا سبب نہیں،اسی لئے" فتح القدیر" میں فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ؛کیونکہ ثمن کا ایک حصہ تو وعدہ کے مقابل ہوگیا اور آدمی پر ہمیشہ قرض دیناواجب نہیں، بلکہ وہ ایک نیک کام ہے۔
("فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴)اور" عنایہ" میں فرمایا کہ قرض دینے سے روگردانی کرنا مکروہ نہیں ،اسی طرح سے تجارت میں نفع کی طمع بھی مکروہ نہیں، ورنہ نفع پر خرید و فروخت کرنا بھی مکروہ ہوتا۔
("العنایۃ"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۳)