بلکہ یہ روایت "ابوداؤد" میں ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے کہ:۔
((جب تم بیلوں کی دُمیں پکڑو اور کاشت کاری میں پڑجاؤ اور جہاد چھوڑ دو))
("سنن أبي داود"، کتاب الإجارۃ، باب [في] النھي عن العینۃ، رقم: ۳۴۶۲، ج۳،
ص۳۷۸ ملتقطاً)
اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ کھیتی باڑی کرنا منع نہیں، بلکہ جمہور علماء کے نزدیک جہاد کے بعد سب پیشوں سے افضل ہے، اور بعض نے کہا کہ :۔
"جہاد کے بعد تجارت، پھر زراعت، پھر حِرفت افضل ہے"، جیسا کہ "وجیزکردری"میں ہے، اس لئے جب"عنایہ" میں اس حدیث سے بیع عینہ کی مذمت پر دلیل لائے تو علامہ سعدی ا فندی نے فرمایا کہ میں کہتا ہوں: اگر یہ دلیل صحیح ہوجائے تو