| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
("تقریب التھذیب"، حرف الألف، من اسمہ إسحاق، ترجمۃ: ۳۷۰، ج۱، ص۴۲)بالجملہ یہ حدیث درجہ حسن سے نیچے نہیں ہے، اور بے شک امام سیوطی نے "جامع صغیر" میں اس کے حسن ہونے کا تذکرہ فرمایاہے،اور یہ حدیث بہت سی سندوں سے آئی ہے جن کے لئے بیہقی نے اپنی" سنن" میں ایک فصل وضع کی اور ان کی علتیں
(Causes)
بیان کیں۔
("فیض القدیر" شرح" الجامع الصغیر"، حرف الھمزۃ، رقم الحدیث: ۵۱۴، ج۱، ص۴۰۳)میرے خیال میں "فتح القدیر" کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام محمد- رحمہ اﷲ تعالیٰ - نے اس حدیث کو حجت ٹھہرا یا ہے، تو اس صورت میں تو یہ حدیث ضرور صحیح ہے؛ کیونکہ مجتہد جب کسی حدیث سے ستدلال
(Reasoning)
کرے تو وہ استدلال اُس حدیث کی صحت کا حکم ہوتا ہے، جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے "فتح القدیر" میں اوران کے علاوہ دیگر فقہاء نے دوسری کتب میں اس قانون کا ذکر فرمایا ہے۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، فصل في ما یدخل في البیع تبعاً، مطلب: المجتھد إذا استدلّ بحدیث...إلخ، ج۷، ص۸۳)بہر حال اس حدیث میں بیع عینہ کی ممانعت پر کوئی دلیل نہیں، کیا اس کے