| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
("سنن أبي داود"، کتاب الإجارۃ، باب [في] النھي عن العینۃ، رقم الحدیث: ۳۴۶۲، ج۳، ص۳۷۸۔" السنن الکبرٰی" للبیھقي، کتاب البیوع، باب ما ورد في کراھیۃ...إلخ، رقم الحدیث: ۱۰۷۰۳، ج۵، ص۵۱۷۔" المسند" للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب، رقم الحدیث: ۵۵۶۴، ج۲، ص۳۸۴)امام ابن حجر نے فرمایا: اس کی سند ضعیف ہے، اور امام احمد کے یہاں اس کی ایک سند اور ہے جو کہ اس سند سے بہتر ہے۔
(" فیض القدیر" شرح" الجامع الصغیر"، حرف الھمزۃ، رقم: ۵۱۴، ج۱، ص۴۰۳)اورابوداؤد کی سند میں عبد الرحمن خُراسانی اسحاق بن اسید انصاری ہیں۔ ابن ابی حاتم نے کہا: وہ زیادہ مشہور نہیں، اور ابو حاتم نے کہا: کہ ان سے کام نہ رکھا جائے، اور ذہبی نے کہا وہ'' جائز الحدیث'' ہیں۔
("میزان الاعتدال"، ترجمۃ: ۸۸۹، إسحاق بن أسید ، حرف الألف من اسمہ إسحاق، ج۱، ص۲۰۹،۔"میزان الاعتدال"، ترجمۃ: ۱۰۸۱۲، أبو عبد الرحمن الخراسانی، ج۴، ص۵۰۳)پھر کنیتوں کے بیان میں انہیں دوبارہ ذکر کیا اور اس حدیث کو ان کی احادیث منکرہ میں شمار کیا۔
("میزان الاعتدال"، ترجمۃ: ۱۰۸۱۲، أبو عبد الرحمن الخراسانی، ج۴، ص۵۰۳)