Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
139 - 199
میرے خیال میں امام ابو یوسف کا یہ فرمان کہ بہت سے صحابہ- رضی اﷲ تعالیٰ عنہم- نے اسے کیا"اصولِ فقہ کی اصطلاح
(Terminology of Principles of Jurisprudence)
میں حدیث مرسَل
 (Transmitted Hadith)
ہے؛ کیونکہ ہمارے نزدیک مرسَل ہر اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند متصل نہ ہو، اور اس کی اقسام میں فرق کرنا اور ان کے جدا جدا نام مرسَل ومنقطع و مقطوع و معضل رکھنا فقط محدثین کی

اصطلاح ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اس میں کتنی صورتیں ہوتی ہیں، جبکہ ان تمام صورتوں کا حکم ہمارے نزدیک ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ثِقہ راوی کوئی حدیث مرسَل لائے تو وہ مقبول ہے، جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب "منیر العین في حکم تقبیل الإبھامین" میں اس کی تحقیق بیان کی ہے ،اور" مسلم الثبوت "وغیرہ میں اس کی تصریح فرمائی ہے، اور تجھے امام ابو یوسف -رحمہ اللہ تعالی - سے بڑھ کر کونسا ثِقہ در کار ہے.....؟ لہٰذا جب اکثر صحابہ کرام - رضی اﷲ عنہم سے اُسے کرنا اور اس کی تعریف فرمانا ثابت ہے تو اس سے رو گردانی نہیں کی جاسکتی؛ کیونکہ ہمارے امام اعظم- رضی اﷲ تعالی عنہ- کا مذہب صحابہ کرام - رضی اﷲ تعالیٰ عنہم- کی تقلید ہے اور بے شک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں ان کی پیروی کا حکم دیا ہے،جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے کہ:۔

    ((جب تم بطور عینہ خرید و فروخت کروگے .....الخ))

اسے امام احمد و ابوداؤد وبَزّاز و ابو یعلی وبیہقی نے نافع سے، انہوں نے عبد اﷲ بن عمر -رضی اﷲ تعالیٰ عنہما -سے روایت کیا۔
Flag Counter