نے ایجاد کیا ہے۔
اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ: (( جب تم بطور عینہ خرید و فروخت کروگے اور بیلوں کی دم کے پیچھے چلوگے تو ذلیل ہوجاؤگے اور تمہارا دشمن تم پر غالب آجائے گا))۔" فتح القدیر" میں فرمایا کہ بیع عینہ میں کوئی کراہت نہیں، مگر یہ خلاف اَولیٰ ہے کیونکہ اس میں قرض دینے کے اچھے سلوک سے روگردانی ہے۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الصرف، مطلب في بیع العینۃ، ج۷، ص۵۷۶)
اسے" بحر الرائق"،"نہر الفائق"، "درمختار" اور" شرنبلالیہ" وغیرہانے اسی طرح برقرار رکھا، نیز "فتح القدیر" میں ہے کہ امام ابو یوسف نے فرمایاکہ یہ بیع مکروہ نہیں؛ کیونکہ بہت سے صحابہ کرام- رضی اﷲ عنہم- نے اسے کیا اور اسکی تعریف فرمائی اور اسے سود قرار نہ دیا۔
("فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴)